تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل دلچسپ مرحلہ میں داخل

   

۔ 4 زمروں کے 6 ارکان کیلئے حکومت کی سرگرمیاں، نامزد ارکان کیلئے قائدین سرگرم

حیدرآباد۔/15فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل جدید کیلئے4 مختلف زمرہ جات کے 6 ارکان کے انتخاب کیلئے پرچہ جات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 17 فروری مقرر ہے لیکن ابھی تک ایک بھی پرچہ نامزدگی داخل نہیں کیا گیا۔ رکن پارلیمنٹ، ارکان مقننہ، متولی و منیجنگ کمیٹی اور بار کونسل زمرہ جات کیلئے 6 ارکان کا رائے دہی کے ذریعہ انتخاب ہوگا۔ ارکان مقننہ کے زمرہ میں 2 اور متولی و منیجنگ کمیٹی زمرہ میں 2 ارکان کا انتخاب ہوگا۔ بار کونسل اور ارکان پارلیمنٹ زمرہ سے ایک ایک رکن کا انتخاب کیا جائے گا۔ 6 ارکان کا انتخاب اس مرتبہ دلچسپ مرحلہ میں داخل ہوچکا ہے۔ ارکان مقننہ زمرہ میں اسمبلی اور کونسل سے ایک ایک رکن کا انتخاب کرنے کیلئے حکومت حکمت عملی تیار کررہی ہے۔ ٹی آر ایس نے اس سلسلہ میں اپنی حلیف جماعت مجلس سے بات چیت کی اور کسی ایک زمرہ میں پرچہ نامزدگی داخل کرنے کا مشورہ دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مجلس نے رکن اسمبلی جبکہ ٹی آر ایس رکن کونسل کیلئے اتفاق کرچکے ہیں۔ ٹی آر ایس کی جانب سے کونسل کی رکنیت کے 2 پرچہ جات نامزدگی الیکشن آفیسر سے حاصل کئے گئے جس کے بعد ٹی آر ایس حلقوں میں وقف بورڈ رکن کے نام پر الجھن پیدا ہوچکی ہے۔ اس مرتبہ متولی اور منیجنگ کمیٹی زمرہ میں دو سے زائد پرچہ جات نامزدگی کے ادخال کا امکان ہے جس کے سبب متفقہ انتخاب کے بجائے رائے دہی کے ذریعہ انتخاب ہوسکتا ہے۔ بارکونسل زمرہ میں بھی دو دعویدار ہیں لہذا الیکشن آفیسر کو انتخاب کے طریقہ کار کو طئے کرنا پڑے گا۔ توقع ہے کہ امیدواروں کے مسئلہ پر کل تک صورتحال واضح ہوجائے گی۔ پرچہ جات نامزدگی کے ادخال کی آخری تاریخ 17 فروری شام 4 بجے ہے جبکہ 18 فروری کو پرچہ جات کی جانچ کی جائے گی۔ 21 فروری سہ پہر 3 بجے تک نام واپس لئے جاسکتے ہیں۔ الیکشن کے ضروری ہونے پر 28 فروری کو صبح 11 تا شام 4 بجے تک رائے دہی وقف بورڈ کے دفتر رزاق منزل نامپلی میں ہوگی۔ اسی دن شام میں نتائج کا اعلان کردیا جائے گا۔دوسری طرف نامزد کئے جانے والے 5 ارکان میں اپنا نام شامل کرنے کیلئے مختلف قائدین کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وقف بورڈ کی تشکیل کے مسئلہ پر وزیر داخلہ محمد محمود علی سے بات چیت کی اور مجلس سے مشاورت کے ذریعہ اتفاق رائے پیدا کرنے کی صلاح دی۔ بتایا جاتا ہے کہ الیکشن کے مرحلہ کے بعد نامزد ارکان کے ناموں پر غور کیا جائے گا۔ ر