حیدرآباد اور اضلاع میں سی پی آئی کا دھرنا، سامبا سیوا راؤ ، ای ٹی نرسمہا اور دوسروں کی شرکت
حیدرآباد ۔12۔ ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں حالیہ بارش اور سیلاب کے نقصانات کو قومی آفات سماوی شمار کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو فوری طور پر 2000 کروڑ روپئے جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سی پی آئی کی جانب سے آج حیدرآباد اور دیگر اضلاع میں احتجاجی دھرنے منظم کئے گئے۔ سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری سامبا سیوا راؤ نے کھمم ضلع میں احتجاجی دھرنے کی قیادت کی۔ حیدرآباد میں حمایت نگر جنکشن پر سی پی آئی اسٹیٹ سکریٹریٹ ارکان ای ٹی نرسمہا اور وی ایس بوس کی قیادت میں دھرنا منظم کیا گیا ۔ سی پی آئی قائدین نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیلاب کے متاثرین کے امدادی کاموں کیلئے تلنگانہ کو فراخدلانہ امداد جاری کریں۔ کھمم میں منعقدہ احتجاج میں جو ضلع کلکٹریٹ کے روبرو منعقد کیا گیا ، سینکڑوں کی تعداد میں سی پی آئی ارکان نے حصہ لیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سامبا سیوا راؤ نے کہا کہ کھمم ، سوریا پیٹ ، محبوب آباد اور دیگر اضلاع میں بارش اور سیلاب سے بھاری نقصانات ہوئے ہیں۔ پارٹی نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کا رویہ ترک کریں۔ سامبا سیوا راؤ نے کہا کہ مرکزی حکومت ملک میں مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہے۔ غریب اور متوسط طبقات بڑھتی مہنگائی کے سبب پریشان ہیں۔ سی پی آئی کے ریاستی قائدین ہیمنت راؤ ، پی پرساد اور محاذی تنظیموں کے قائدین نے دھرنے میں حصہ لیا۔ حیدرآباد میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ای ٹی نرسمہا نے کہا کہ مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو رپورٹ پیش کردی ہے۔ مرکزی حکومت کے عہدیداروں کی ٹیم متاثرہ علاقوں کے دورہ پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارش اور سیلاب سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے اور کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا۔ مرکز کو فوری امداد کے طور پر 2000 کروڑ روپئے جاری کرنے چاہئے تاکہ متاثرہ خاندانوں اور بالخصوص کسانوں کی مدد کی جاسکے۔ 1