مرکز کے عدم تعاون، فنڈز کی عدم اجرائی اور قرضوں پر تحدیدات عائد کرنے پر کے ٹی آر کی برہمی
حیدرآباد ۔ 10 ستمبر (سیاست نیوز) ریاستی وزیر آئی ٹی و صنعت کے ٹی آر نے مرکزی حکومت پر تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ وار ٹوئیٹ کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر تنقید کرنے کے ساتھ برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر کے ارادے کسی مضبوط چٹان سے کم نہیں ہیں۔ کوئی بھی طاقت ریاست کی ترقی میں ہرگز حائل نہیں ہوسکتی۔ یو پی اے حکومت نے ریاست کو آئی ٹی آئی آر منظور کیا تھا لیکن مودی حکومت نے اس کو منسوخ کردیا باوجود اس کے آئی ٹی کے شعبہ میں تلنگانہ نے 3.2 گنا زیادہ ترقی کی ہے۔ گذشتہ سال ملک میں فراہم کی گئی 3 آئی ٹی ملازمتوں میں ایک کا تعلق حیدرآباد سے رہا ہے۔ مرکزی حکومت ریاست کو مقررہ وقت پر فنڈز جاری نہیں کررہی ہے اور ساتھ ہی ایف آر بی ایم قواعد کا بہانہ کرتے ہوئے حصول قرض پر تحدیدات عائد کررہی ہے۔ ریاست کو انڈسٹریل کاریڈار منظور کرنے سے مرکزی حکومت نے انکار کردیا باوجود اس کے عمر میں ملک کے دوسری ریاستوں سے چھوٹی ریاست ہونے کے باوجود اپنے بل بوتے پر جو صنعتی ترقی کی ہے وہ غیرمعمولی ہے۔ مرکز کے تعاون کے بغیر ریاست میں آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات کی جارہی ہیں۔ تلنگانہ حکومت تمام چیلنجس کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے ریاست کو ترقی دینے کے ساتھ فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کررہی ہے جس کی ملک بھر میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ تلنگانہ حکومت صرف خواب ہی نہیں دیکھتی خوابوں کی تعبیر کیلئے خصوصی منصوبہ بندی کے ساتھ کام بھی کرتی ہے۔ن