ایم ایل سی داسوجو شراون کا تیجسوی سوریا کو پارلیمنٹ سے معطل کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ایم ایل سی داسوجو شراون نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ تیجسوی سوریہ کی جانب سے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کو ہندوستان ۔ پاکستان کی تقسیم سے تشبیہہ دینے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کو غیر دستوری ، توہین آمیز اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے انہیں معطل کرنے کے ساتھ مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے اپنے سخت بیان میں کہا کہ تیجسوی سوریا کے پارلیمنٹ میں کیا گیا ریمارکس ان کی آئینی نا سمجھی اور سیاسی جہالت کو ظاہر کرتا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل دستور ہند کے آرٹیکل 3 کے تحت ایک مکمل دستوری اور پارلیمانی عمل ہے جس کا موازنہ 1947 کی تقسیم سے کرنا پارلیمنٹ اور دستور دونوں کی توہین ہے ۔ تلنگانہ کا پاکستان سے تقابل کرنا نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ یہ غداری کے مترادف ہے ۔ کیا تلنگانہ کے عوام بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کی نظر میں دشمن ہیں ؟ ان ریمارکس سے تلنگانہ عوام کے جذبات کو ٹھیس پہونچی ہے ۔ ڈاکٹر داسوجو نے تلنگانہ تحریک کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست کسی تحفے کے طور پر نہیں ملی بلکہ طویل جدوجہد ، سینکڑوں طلبہ کی قربانیوں اور کروڑوں عوام کی امنگوں کا نتیجہ ہے ۔ اس تاریخی جدوجہد کو تقسیم ہند جیسے سانحے سے جوڑنا شہداء کے قربانیوں کی توہین ہے ۔ انہوں نے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے بی جے پی اور کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا اور کہا کہ انہیں فوری طور پر ان ریمارکس کی مذمت کرنی چاہئے ۔ داسوجو شراون نے مطالبہ کیا کہ تیجسوی سوریا کو فوری طور پر پارلیمنٹ سے معطل کیا جائے اور ان کے خلاف (BNSS) اور (BNS) کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے ۔۔ 2/m/b