5 ہزار اسکولوں میں محض ایک ہی ٹیچر، نیتی آیوگ کی رپورٹ میں انکشاف
حیدرآباد۔9۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں میں سرکاری اسکولوں اور تعلیمی نظام کے متعلق ’نیتی آیوگ‘ کی رپورٹ نے تلنگانہ کے سرکاری اسکولوں سے متعلق تشویشناک صورتحال کا انکشاف کیا ہے۔ نیتی آیوگ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ریاست تلنگانہ کے 24ہزار اسکولو ںمیں زائد از 5ہزار اسکولوں میں محض ایک ٹیچر کی نگرانی میں چلائے جار ہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ریاست کے 24 فیصد اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لئے اسکول میں محض ایک استاد ہے ۔ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی قلت کے نتیجہ میں سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے مستقبل کے متعلق آیوگ نے تفکرات کا اظہار کیا ہے۔بتایاجاتاہے کہ بیشتر تمام 5001 اسکولوں میں جہاں ایک ٹیچر کی نگرانی میں اسکول چلائے جا رہے ہیں ان تمام اسکولو ںمیں تعلیم حاصل کرنے والے تمام جماعتوں کے طلبہ کو تمام مضامین کی تعلیم دینا ایک ہی ٹیچر کی ذمہ داری ہے۔نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق سرکاری اسکولوں میں تعلیمی معیار میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کے نتیجہ میں ہر سال سرکاری اسکولوں میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں بھی گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے جو کہ سرکاری اسکولوں کے مستقبل کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ملک بھر میں 7993 ایسے سرکاری اسکولوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں جاریہ تعلیمی سال کے دوران صفر داخلہ ریکارڈ کئے گئے تھے ۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں سرکاری اسکولوں میں جہاں ایک بھی داخلہ نہیں ہوا تھا ان میں مغربی بنگال کے سرکاری اسکول 3812 کی تعداد کے ساتھ سرفہرست ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر تلنگانہ ہے جہاں مجموعی طور پر 2245 سرکاری اسکولو ںمیں کوئی نیا داخلہ نہیں دیا گیا۔جن اسکولوں میں صفر داخلے رہے ان اسکولوں میں جملہ 1016 اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔H/3