تلگوریاستوں کے درمیان تنازعات کی یکسوئی کیلئے آج دہلی میں اہم اجلاس

   


اداروں کے اثاثہ جات کی تقسیم پر بات چیت، چیف سکریٹری سومیش کمار شرکت کریں گے
حیدرآباد۔/22 نومبر، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش کی تقسیم کو آٹھ سال مکمل ہونے کے باوجود دونوں تلگو ریاستوں میں سرکاری اداروں کے اثاثہ جات کی تقسیم کے مسئلہ پر تنازعہ برقرار ہے۔ تلنگانہ حکومت نے شیڈول 9 اور 10 میں شامل اداروں کے اثاثہ جات کی یکساں تقسیم سے متعلق آندھرا پردیش کے مطالبہ کو مسترد کردیا ہے۔ تنظیم جدید قانون 2014 کے تحت سرکاری اداروں کو دو علحدہ شیڈول میں شامل کیا گیا تاکہ باہمی اتفاق رائے سے اثاثہ جات اور ملازمین کی تقسیم عمل میں آئے۔ دونوں ریاستوں میں 52:48 کے تناسب سے آبادی کے اعتبار سے بینک ڈپازٹس کی تقسیم سے اتفاق کیا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے سنگارینی کالریز کمپنی لمیٹیڈ کے اثاثہ جات کی تقسیم سے انکارکردیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مرکز کی جانب سے دہلی میں چہارشنبہ کو دونوں ریاستوں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ طلب کردہ اجلاس میں تلنگانہ اپنا موقف پیش کرے گا۔ چیف سکریٹری سومیش کمار تلنگانہ وفد کی قیادت کریں گے جس میں فینانس، برقی، سیول سپلائیز، ٹرانسپورٹ، آر اینڈ بی اور سنگارینی کالریز کے عہدیدار شرکت کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ گذشتہ دو اجلاسوں کی طرح اس مرتبہ اہم مسائل پر تعطل نہ رہے۔ شیڈول 10 کے تحت 142 ادارہ جات کو شامل کیا گیا ہے جن میں زیادہ تر حیدرآباد میں واقع ہیں۔ دیگر 91 اداروں کو شیڈول 9 میں شامل کیا گیا ہے ۔ ان اداروں کے اثاثہ جات ہزاروں کروڑ کے ہیں جن میں عمارتیں، اراضیات اور بینک ڈپازٹس شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 12 ادارے اس قانون کے دائرہ میں شامل نہیں کئے گئے۔ آندھرا پردیش حکومت ان 12اداروں کے اثاثہ جات کی تقسیم پر اصرار کررہی ہے۔ر