تمام آبپاشی پراجکٹس میں دھاندلیوں کی تحقیقات جاری: چیف منسٹر

,

   

کے سی آر کو اسمبلی میں آکر حکومت سے راست بات کرنے کا مشورہ، میڈی گڈہ بیاریج کا دورہ، ریونت ریڈی کی میڈیا سے بات چیت

حیدرآباد۔13فروری(سیاست نیوز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے بی آر ایس سربراہ کو مشورہ دیا کہ وہ جلسہ عام میں تقاریر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کے بجائے اسمبلی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے حکومت سے راست بات چیت کریں۔ انہوں نے میدی گڈہ بیاریج کے دورہ کے بعد میڈیاکے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ حقائق کے منظر عام پر آنے سے خوفزدہ میں ہیں اور انہیں اس بات کا احساس ہے کہ اگر وہ اسمبلی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے آمنے سامنے مباحث میں حصہ لیں گے تو بی آرایس دور حکومت کی تمام بدعنوانیاں منظر عام پر آجائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت میدی گڈہ بیاریج کے علاوہ آبپاشی پراجکٹس میں ہونے والی تمام دھاندلیوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔چیف منسٹر نے کے سی آر سے استفسار کیا کہ آیا ان کی قیامگاہ سے نلگنڈہ دور ہے یا اسمبلی !انہو ںنے بتایا کہ اپنے پیر کی تکلیف کا بہانہ کرتے ہوئے کے سی آر اسمبلی نہیں آرہے ہیں لیکن وہ نلگنڈہ پہنچ چکے ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ سی اے جی کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں بھی کالیشورم پراجکٹ میں ہونے والی ہزاروں کروڑ کی دھاندلیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کالیشورم بالخصوص میدی گڈہ بیاریج میں دراڑ کی نشاندہی 2020 میں ہی ہوچکی تھی لیکن اس کو چھپانے کی کوشش کی گئی جو کہ 2023 میں منظرعام پر آئی ۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ بیاریج کو خطرہ کی نشاندہی کے باوجود اسے بہتر بنانے کے اقدامات نہیں کئے گئے ۔چیف منسٹر نے کہا کہ اگر کے سی آر خود کو ’ستیہ ہریش چندر‘ سمجھتے ہیں تو اسمبلی میں جاری مباحث میں حصہ لینے سے فرار کیوں اختیار کر رہے ہیں!انہو ںنے کہا کہ اگر کے سی آر کالیشورم کی دھاندلیوں میں ملوث نہیں ہیں تو خوفزدہ کیوں ہیں!چیف منسٹر نے کہا کہ اب دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کا کے سی آر کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ میدی گڈہ بیاریج کی تخمینی لاگت 1800 کروڑ تھی لیکن بی آر ایس حکومت نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 4000 کروڑ کیاتھا۔انہو ںنے بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان خفیہ مفاہمت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کو میدی گڈہ بیاریج کے دورہ کیلئے مدعو کیا تھا لیکن بی جے پی اور بی آر ایس کے ارکان اسمبلی نے آج کے دورہ سے خود کو دور رکھتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت ہے۔ انہوں نے کے سی آر کو جاریہ اسمبلی اجلاس کے دوران شرکت کرتے ہوئے مباحث میں حصہ لینے کا مشورہ دیا۔انہو ں نے کہا کہ بی آر ایس ارکان اسمبلی کو کے سی آر نے نلگنڈہ جلسہ عام کے نام پر میدی گڈہ کے دورہ سے روک لیا اور بی جے پی ارکان اسمبلی کو ریاستی صدر بی جے پی کشن ریڈی نے میدی گڈہ جانے سے منع کیا ہے۔چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ریاستی وزراء‘ ارکان اسمبلی ‘ مجلسی ارکان اسمبلی اور سی پی آئی رکن اسمبلی کے ہمراہ میدی گڈہ بیاریج پہنچ کر پلرس میں موجود دراڑوں کے علاوہ پراجکٹ کو ہونے والے نقصانات کا مشاہدہ کیا۔3 ( سلسلہ صفحہ 6 پر)
اس دورہ میں چیف منسٹر کے ہمراہ ریاستی وزراء کیپٹن اتم کمار ریڈی‘ مسٹر ڈی سریدھر بابو‘ مسٹر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ‘ مسٹر ٹی ناگیشور راؤ کے علاوہ دیگر وزراء موجود تھے ۔ کانگریس ارکان اسمبلی و قانون ساز کونسل کے علاوہ دورہ میں مجلسی ارکان اسمبلی میر ذوالفقار علی ‘ جعفر حسین معراج اور کوثر محی الدین کے علاوہ رکن قانون ساز کونسل ریاض الحسن آفندی موجود تھے اس کے علاوہ سی پی آئی رکن اسمبلی سامبا شیواراؤ نے بھی دورہ میں شرکت کرتے ہوئے پراجکٹ کا معائنہ کیا۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے میدی گڈہ بیاریج کا دورہ کرنے کے بعد ریاستی وزراء ‘ محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں کے علاوہ دیگر کے ہمراہ جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ جائزہ اجلاس کے دوران کالیشورم پراجکٹ میں ہوئی دھاندلیوں کی تفصیلات کے متعلق آگہی حاصل کی ۔چیف منسٹر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کے چندر شیکھر راؤ کو اقتدار سے محرومی کے بعد نلگنڈہ اور نلگنڈہ کے فلورائیڈ کے مسائل یاد آنے لگے ہیں۔ انہو ںنے کے سی آر کو مشورہ دیا کہ وہ قائد اپوزیشن کی حیثیت سے اسمبلی میں آئیں اور حکومت اپنا مشورہ دیں۔ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے بارہا کہا جا رہاہے کہ کے سی آر اسمبلی میں آئیں اور بات کریں عوام کے درمیان پہنچ کر عوام کو گمراہ کرتے ہوئے حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ انہوں نے تلنگانہ عوام کو مشورہ دیا کہ وہ کے سی آر کی سیاسی کوششوں کو ناکام بنائیں کیونکہ کے سی آر کالیشورم پراجکٹ کی بدعنوانیوں سے بچنے کے لئے عوام کو گمراہ کرتے ہوئے پارلیمانی انتخابات میں عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی بھی جو کے سی آر کی بدعنوانیوں کی تحقیقات کی بات کرتی ہے نے واضح کردیا ہے کہ وہ بدعنوان کے سی آر کے ساتھ ہے کیونکہ میدی گڈہ بیاریج کا جو دورہ کیا گیا ہے وہ دراصل کے سی آر کی بدعنوانیوں کو منظر عام پر لانے کے سلسلہ میں اہم پیشرفت ہے۔3