چڑھاوا چوری کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایس آئی ٹی تحقیقات کا مطالبہ ۔ راجیہ سبھا میں کانگریس ڈپٹی لیڈر پرمود تیواری کا بیان
نئی دہلی 2 اگست (یو این آئی) کانگریس نے ایودھیا رام مندر میں چڑھاوے کی چوری کے الزامات کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) سے جامع اور منصفانہ جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔پارٹی کا کہنا ہے کہ رام مندر سے جڑے عہدیداروں کا تقرر ٹرسٹ کی بجائے بی جے پی کے اشارے پر ہوا ہے اور چڑھاوے کی چوری کے انکشاف کے بعد استعفے دینا اس پورے معاملے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں، اس لیے پورے معاملے کی منصفانہ جانچ کرائی جانی چاہیے ۔ راجیہ سبھا میں کانگریس کے نائب لیڈر پرمود تیواری نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ ایودھیا میں اراضی کے حصول سے مندر کی تعمیر اور چڑھاوے کے انتظام تک مسلسل کئی سنگین بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مندر ٹرسٹ نے سات پلاٹوں کی خریداری کی ہے اور وہ پلاٹ رام مندر سے کافی دور ہیں۔ ان پلاٹوں کا مندر کیلئے کوئی استعمال نہیں ہے ، ایسے میں ان خریداریوں کا مقصد واضح کیا جانا چاہیے ۔مسٹر تیواری نے کہا کہ رام مندر میں صرف چڑھاوے کی چوری نہیں ہوئی، بلکہ شیلا پوچن کے وقت سے ہی چوری شروع ہو گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ وہ اودھ خطے کے ساکن ہیں اور 1985 تا 1990 اتر پردیش حکومت میں سیاحت کے وزیر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے رام جنم بھومی تحریک کو شروع سے بہت قریب سے دیکھا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے مندر کی تعمیر سے زیادہ مندر تحریک کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مندر کا افتتاح تب کیا، جب تعمیراتی کام پورا نہیں ہوا تھا۔ اسے روایتوں کے برعکس بتاتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کا سیاسی اثر بھی بی جے پی پر منفی پڑا ہے اور اس کی لوک سبھا کی نشستیں 306 سے گھٹ کر 240 پر آ گئی ہیں۔کانگریس لیڈر نے مندر کمیٹی کے ذریعے بے تحاشہ اخراجات کا الزام لگایا اور کہا کہ مندر کی افتتاحی تقریب پر 112 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ، جبکہ مندر کی تعمیر سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ رام مندر میں چڑھائے گئے سونے اور چاندی کو پگھلا کر اس سے حاصل شدہ رقم کو شیئر بازار میں سرمایہ کاری کیلئے استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام الزامات کی منصفانہ جانچ ضروری ہے ۔ مسٹر تیواری نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ بی جے پی میں سبھی چندہ چورہیں، لیکن اگر چڑھاوے کی چوری کی فہرست تیار کی جائے تو اس میں سارے چندہ چوربی جے پی میں ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اس معاملے میں جواب دہی سے بچنا چاہتی ہے ، لیکن اب سچائی سامنے آنی چاہیے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایس آئی ٹی سے جامع اور منصفانہ جانچ کرائی جائے ۔