تمام محکمہ جات میں اخراجات پر کنٹرول رکھنے کی تجویز

   

محکمہ فینانس سے اجازت کا حصول لازمی شرط، معاشی صورتحال پر منصوبہ بندی

حیدرآباد۔17 نومبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کے محکمہ فینانس کی جانب سے ریاست کے تمام محکمہ جات اور ان کے تحت خدمات انجام دینے والے شعبہ جات کے اخراجات پر تحدیدات عائد کرنے کے علاوہ ان کے اخراجات پر کنٹرول کیلئے محکمہ فینانس کی اجازت کے بغیر کسی خرچ کو منظوری نہ دینے کے سلسلہ میں غور کیا جانے لگا ہے او رکہا جا رہاہے کہ آئندہ چند یوم کے دوران اس سلسلہ میں محکمہ فینانس کی جانب سے قطعی پالیسی چیف منسٹر کو پیش کرتے ہوئے ان کی منظوری حاصل کرنے کے بعد احکام کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت تلنگانہ کے محکمہ فینانس کی جانب سے ریاست کی معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ ریاست میں موجود تمام شعبہ جات اور محکمہ جات کے تمام بینک کھاتوں کی تفصیلات حاصل کی جائیں اور اس سلسلہ میں محکمہ فینانس کی جانب سے تمام محکمہ جات اور ان کے تحت خدمات انجام دینے والے اداروں اور کارپوریشنوں کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے ادارو ںکی جانب سے کھولے جانے والے تمام بینک کھاتوں کی مکمل تفصیلات محکمہ فینانس کے پاس جمع کروائیں ۔ریاستی حکومت کے محکمہ جات اور ان کے تحت خدمات انجام دینے والے اداروں کو ایک سے زائد بینک کھاتہ کھولنے کا اختیار حاصل ہے اور بیشتر تمام محکمہ جات کے علاوہ ادارہ جات اور کارپوریشن کی جانب سے ایسا کیا جاتا ہے اور جہاں کہیں فلاح و بہبود کے بجٹ ہوتے ہیں اور ترقیاتی کاموں کے بجٹ ہوا کرتے ہیں ان اداروں میں یہ عمل معمول کی بات ہے کیونکہ انہیں اپنی ضرورت اور حالات کو دیکھتے ہوئے اخراجات کا تعین کرنا ہوتا ہے لیکن ریاست تلنگانہ کی موجودہ معاشی حالت کو دیکھتے ہوئے محکمہ فینانس کی جانب سے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں ان کا مقصد بہبود کے اداروں اور ترقیاتی کاموں کو پائے تکمیل تک پہنچانے والے اداروں کے اخراجات پر فوری روک لگانے کے کوشش کے مترادف ہے کیونکہ ایک سے زائد بینک کھاتوں میں ان اداروں اور محکمہ جات کے منظورہ بجٹ جو کہ جاری کئے گئے ہوتے ہیں وہ جمع کئے جاتے ہیں جنہیں اداروں کی جانب سے ضرورت کے مطابق خرچ کیا جاتا ہے ۔ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے اس بات پر غور کیا جا رہاہے کہ تمام اداروں کے کھاتوں میں موجود رقومات کو فوری طور پر نکالتے ہوئے انہیں خرچ کیا جائے اور ضرورت کے مطابق حکومت کی جانب سے جلد ازجلد بجٹ کی اجرائی کو یقینی بنایا جائے گا۔عہدیداروں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ریاست کے مختلف محکمہ جات اور اداروں کے بینک کھاتوں کی تفصیلات حاصل کئے جانے کا مطلب واضح اور صاف ہے کیونکہ عام طور پر معاشی بحران کی صورت میں ہی حکومت یہ جاننے کی کوشش کرتی ہے کہ کن اداروں کے پاس کتنی رقومات جمع ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کے محکمہ فینانس کی جانب سے ان تفصیلات کے حصول کے بعد تمام محکمہ جات اور اداروں کے لئے احکام جاری کرتے ہوئے اضافی اخراجات کو فوری روکنے کی ہدایت دیتے ہوئے ان اداروں کے کھاتوں میں جمع رقومات حاصل کرلئے جانے کا بھی خدشہ ہے۔ریاست تلنگانہ میں محکمہ فینانس کی جانب سے فلاح و بہبود کے اداروں کو رقومات کی عدم اجرائی کے علاوہ ترقیاتی کام انجام دینے والے اداروں جیسے محکمہ عمارات و شوارع کے علاوہ محکمہ بلدی نظم و نسق کو رقومات جاری نہ کئے جانے کی شکایت کے دوران حکومت کے محکمہ فینانس کی جانب سے ان احکامات کی اجرائی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ محکمہ فینانس نے ریاست میں جاری فلاح و بہبود کی اسکیمات کو عارضی طور پر روکنے کی کوششوں کا فیصلہ کیا ہے ۔باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق محکمہ فینانس کی جانب سے ان احکامات کی اجرائی کی صورت میں اقلیتی اقامتی اسکولوں‘ فینانس کارپوریشن کی اسکیمات کے علاوہ اردو اکیڈمی پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور دیگر طبقات کے رہائشی اسکولوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔علاوہ ازیں ریاست میں جاری ترقیاتی کاموں کے بھی متاثر ہونے کے امکان ظاہر کئے جانے لگے ہیں۔