نئی دہلی : وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے مالی سال 2023-24 سے 2025-26 تک تین سال کے دوران 75لاکھ مفت ایل پی جی کنکشن جاری کرنے کیلئے پردھان منتری اجولا یوجنا( پی ایم یو وائی) کی توسیع کو منظوری دی ہے ۔ مندرجہ ذیل شرحوں پر فی کنکشن کیلئے کل مالیاتی اثر 1650 کروڑ روپئے ہوگا ۔ پی ایم یو وائی صارفین کو ہر سال 12ریفلز کیلئے فی 14-2 کلوگرام ایل پی جی سیلنڈر 200روپئے کی ہدفی سبسیڈی فراہم کی جارہیہے ۔ پی ایم یو وائی کے تسلسل کے بغیر اہل غریب گھرانوں کو اسکیم کے تحت ان کا مناسب فائدہ نہیں مل سکتا ہے ۔ غریب گھرانوں کوا یل پی جی کنکشنس کھانا پکانے کے صاف ایندھن تک رسائی فراہم کریں گے ۔ کھانا پکانے کے رواتی ذرائع جیسے آگ جلانے کی لکڑی ، کوئلہ ، گائے کے گوپر وغیرہ کے استعمال سے پیدا ہونے والے صحت کے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی ۔ لکڑی کے جمع کرنے سے وابستہ مشقت کو دور کرنے سے خواتین کی پیداواریت میں اضافہ ہوگا ۔ان کا معیار زندگی بہتر بنے گا اور بعضٰ اوقات کھانا پکانے کے ایندھن کی عدم دستیابی کی صورتحال بھی ختم ہوگی ۔ کچھ اہل گھرانوں کے پاس اب بھی ایل پی جی کنکشن نہیں ہے ۔ یہ متعدد وجوہات کی وجہ سے ہے ۔ بڑھتی ہوئی آبادی ، شادیوں ، نقل مکانی ، خاندانوں کے نیوکلیئرازیشن ، انتہائی دور دراز مقامات وغیرہ کے نتیجہ میں ہر سال نئے گھر بنتے ہیں ۔ 31 اگست 2023 تک 15لاکھ پیایم یو وائی کنکشنس کی مانگ ہے ۔ پی ایم یو وائی کی ایک کامیاب سماجی بہبود کی اسکیم کے طور پر بڑے پیمانے پر تعریف کی گئی ہے جس نے ملک میں 2016 میں ایل پی جی کی 62 فیصد رسائی کو بڑھاکر اب تقریباً تکمیل کے مرحلہ تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔