جاسوسی میں ماہر اسرائیل سے امریکہ کو جاسو سی کا خوف

,

   

اسرائیل سے متعلق اپنی کاؤنٹر انٹیلجنس کو پنٹگان نے انتہائی بلند سطح تک بڑھادیا

واشنگٹن:7 جون ( ایجنسیز ) امریکی محکمہ دفاع (پنٹگان) نے مبینہ اسرائیلی جاسوسی کے خدشات کے پیش نظر اسرائیل سے متعلق اپنی کاؤنٹر انٹیلیجنس خطرے کی درجہ بندی کو انتہائی بلند سطح تک بڑھا دیا ہے۔ یہ دعویٰ ایک امریکی میڈیا رپورٹ میں کیا گیا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے مطابق امریکی دفاعی انٹیلیجنس ایجنسی نے اپنی تازہ ترین جائزہ رپورٹ میں اسرائیل کو ممکنہ جاسوسی خطرات کی فہرست میں اعلیٰ ترین سطح پر رکھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ اسرائیل سینئر امریکی عہدیداروں کی سرگرمیوں اور اندرونی مشاورت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس حلقوں کی تشویش کا مرکز مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، خصوصاً ایران سے متعلق امریکی پالیسی اور ٹرمپ انتظامیہ کے ممکنہ فیصلے ہیں۔ حکام کا خیال ہے کہ اسرائیل یہ جاننے میں دلچسپی رکھتا ہے کہ آیا امریکہ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کرے گا یا سفارتی راستہ اختیار کرے گا۔این بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دفاعی انٹیلیجنس ایجنسی کی تیار کردہ ایک سات صفحات پر مشتمل دستاویز میں کئی ایسے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے امریکی اداروں کے خدشات میں اضافہ کیا۔ تاہم ان واقعات کی مکمل تفصیلات عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدرٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ایران، لبنان اور خطے کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے اختلافات کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔دوسری جانب واشنگٹن میں موجود اسرائیلی سفارت خانے نے ان تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیلی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل امریکی حکومتی اداروں یا اہلکاروں کے خلاف کسی قسم کی جاسوسی نہیں کرتا اور اسرائیلی انٹیلیجنس سرگرمیاں صرف دشمن عناصر کے خلاف ہوتی ہیں، اتحادی ممالک کے خلاف نہیں۔ترجمان کے مطابق اسرائیل پر لگائے جانے والے ایسے الزامات یا تو غلط معلومات پر مبنی ہیں یا پھر ان کے پیچھے سیاسی مقاصد کارفرما ہیں۔ادھر پنٹگان نے میڈیا رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بھی رپورٹ کے بعض دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط قرار دیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان انٹیلیجنس تعاون اور سفارتی تعلقات پر اثرانداز ہو سکتی ہیں، تاہم اب تک اس معاملے پر کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔