رجسٹریشن اور منتقلی کے دستاویزات کی تنسیخ کے بعد ممنوعہ جائیدادوں کی فہرست میں شامل کروانے پر زور
حیدرآباد۔4 ۔ جولائی (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ جامعہ نظامیہ وقف اراضی کے تحفظ کے لئے فوری اقدامات کرتے ہوئے جامعہ نظامیہ کے تحت موقوفہ 510ایکڑ اراضی پر ہونے والے رجسٹریشن اور منتقلی کے دستاویزات کی تنسیخ کو یقینی بناتے ہوئے اسے ممنوعہ جائیدادوں کی فہرست میں درج کروائے۔ سابق صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان ‘ جناب خواجہ مجیب الدین سابق صدرنشین تلنگانہ اردو اکیڈیمی ‘ جناب خواجہ بدرالدین کے علاوہ دیگر بی آر ایس قائدین نے صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی سے ملاقات کرتے ہوئے یادداشت پیش کی اور ان سے اپیل کی کہ معاملہ کو غیر یقینی صورتحال کا شکار بنانے کے بجائے ریاستی حکومت کو اس سلسلہ میں متوجہ کرواتے ہوئے فوری طور پر سروے نمبر 83 میں موجود 510 ایکڑ اراضی کو ممنوعہ جائیداد کی فہرست میں درج کروانے کے اقدامات کئے جائیں۔ سابق صدرنشین نے جناب سید عظمت اللہ حسینی سے ملاقات کے دوران انہیں بی آر ایس کے دور حکومت میں موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں کئے گئے اقدامات کا تذکرکرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں موقوفہ جائیدادوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں 22A کے تحت ممنوعہ جائیداد قراردیا گیا تھا ۔ انہوںنے ملاقات کے دوران دی گئی یادداشت میں اسٹیٹ بینک کو جس طرح متبادل اراضی حوالہ کرنے کا فیصلہ کیاگیا اسی طرز پر وقف بورڈ کو بھی حکومت پر دباؤ ڈالنے کا مشورہ دیا ۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے صدرنشین وقف بورڈ سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے اپیل کی کہ جنوبی ہند کی عظیم درسگاہ جہاں سے حفاظ اکرام‘ علماء اور مفتیان اکرام فارغ ہوتے ہیں ان کے لئے وقف کی گئی اس اراضی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ حکومت اس انتہائی قیمتی موقوفہ اراضی کے تحفظ میں ناکام ہوتی ہے تو ایسی صورت میں بی آر ایس پارٹی اقلیتی قائدین تلنگانہ سیکریٹریٹ اور اسمبلی کے علاوہ حج ہاؤز کے گھیراؤ سے بھی گریز نہیں کریں گے اور جلد ہی بی آر ایس پارٹی اس اراضی کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے تلنگانہ ہائی کورٹ میں جاری مقدمہ میں درخواست داخل کرنے سے متعلق فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت شاہی مسجد کی توسیع کے نام پر عوام کو گمراہ کرتے ہوئے شاہی مسجد کے تحت موجود اراضی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سابق صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ اسمبلی کی توسیع کیلئے شاہی مسجد کی اراضی کے حصول کی کوششوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی صورت میں شاہی مسجد باغ عامہ کی اراضی حکومت کے حوالہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہو ںنے کہا کہ اگر حکومت شاہی مسجد کی اراضی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو ایسی صورت میں نہ صرف احتجاج کیا جائے گا بلکہ عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے قانونی چارہ جوئی سے بھی گریز نہیں کیاجائے گا۔3/a/b