حیدرآباد 16اگسٹ(سیاست نیوز) جامعہ نظامیہ کے تحت رائے درگ میں موجود اراضی میں 5ایکڑ 25 گنٹہ جو کہ مجموعی طور پر 25ہزار414 مربع گز سے زیادہ ہے کا آج11 بجے تا 2بجے دن ہراج عمل میں آئے گا۔ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن سے جاری اعلامیہ کے مطابق مذکورہ اراضی میں ایک پلاٹ جو کہ 5ایکڑ25گنٹے پر مشتمل ہے کا ای ۔ہراج عمل میں لایا جائے گا اور اس اراضی کی بنیادی قیمت جو متعین کی گئی ہے اس کے مطابق 175 کروڑ روپئے فی ایکڑ سے بولی کا آغاز ہوگا۔ رائے درگ پان مقطعہ شیر لنگم پلی منڈل میں واقع سروے نمبر83/1 میں موجود اس پلاٹ کے ہراج کو روکنے سابق وزیر ہریش راؤ نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو مکتوب روانہ کرکے اس سروے نمبر کی ملکیت کا تنازعہ حل ہونے تک ہراج کوروکنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن حکومت نے اس سلسلہ میں تاحال کوئی اقدامات نہیں کئے بلکہ ہراج کو جاری رکھا گیا اور تلنگانہ ہائی کورٹ میں بھی اس ہراج کو چیالنج کرکے رٹ درخواست داخل کی گئی اور 17 اگسٹ تک تلنگانہ وقف بورڈ کو اراضی ہراج معاملہ میں جوابی حلف نامہ داخل کرنے عدالت نے وقت دیا لیکن ہراج پر حکم التواء جاری نہیں کیا جس کے نتیجہ میں تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن نے اراضی کے ہراج کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔ عدالت میں داخل مقدمہ میں درخواست گذار نے جامعہ نظامیہ کو بھی فریق بنایا ہے ۔ اس کے علاوہ ایک اور درخواست تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل کرکے ہراج کو ماحولیات کے تحفظ کو یقینی بنانے روکنے کی خواہش کی گئی ہے ۔ مذکورہ درخواست میں درخواست گذار نے بتایا کہ سروے نمبر 83میں موجود پتھر و پہاڑیاں محفوظ پہاڑیوں کے زمرہ میں شمار کی جاتی ہیں اور متحدہ آندھراپردیش میں ان پہاڑیوں اور علاقہ کو محفوظ رکھنے اسے تہذیبی ورثہ قرار دے کر احکام کی اجرائی عمل میں لائی گئی تھی لیکن اب حکومت ان پہاڑیوں کو ہراج کرکے ’تہذیبی ورثہ‘ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔3