نئی دہلی، 24 جون (یو این آئی) اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے چہارشنبہ کو کہا کہ مالیاتی سال 26-2025 چیلنجوں سے بھرا رہا اور غیر معمولی جانچ اور تنقیدوں سے بھرا رہا لیکن اس سب کے درمیان کمپنی بغیر رکے اور بغیر جھکے آگے بڑھتی رہی۔گروپ کی سالانہ جنرل میٹنگ (اے جی ایم) سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایسا سال تھا جب دنیا پہلے سے کہیں زیادہ منقسم نظر آئی، توانائی کی حفاظت ایک بار پھر قومی حکمت عملی کے مرکز میں آ گئی۔ ان چیلنجوں کے درمیان اڈانی گروپ نے توانائی، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور صنعتی مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں دنیا کے سب سے مربوط بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے پلیٹ فارم کے طور پر اپنے سفر کو آگے بڑھایا۔ کسی خاص معاملے کا ذکر کیے بغیر انہوں نے کہا، “ہمارا یہ سفر پرسکون حالات میں نہیں ہوا۔ یہ غیر معمولی جانچ پڑتال اور تنقید کے درمیان ہوا۔ پھر بھی، ہم جھکے نہیں، ہم رکے نہیں۔ کیونکہ ہماری پہچان ہمیشہ اس سے طے ہوئی ہے …۔”بنیادی ڈھانچے اور ذہانت کو ملک کی ترقی کے دو اہم ستون قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دو عالمی انجن ہندوستان کی طاقت کو شکل دیں گے ، اس کی خودمختاری کو محفوظ کریں گے اور اسے اس صدی کی بڑی طاقتوں میں سے ایک بننے کی سمت میں آگے بڑھائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچہ سڑکوں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، ٹرانسمیشن لائنوں، بجلی گھروں، قابل تجدید توانائی کے پارکوں، گیس نیٹ ورکس، لاجسٹکس پلیٹ فارمز، سیمنٹ کی گنجائش، پانی کے نظام اور صنعتی ماحولیاتی نظام کی نمائندگی کرتا ہے جو قومی ترقی کو ممکن بناتے ہیں۔
ذہانت ڈیٹا سینٹرز، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی)، آٹومیشن، پیشن گوئی کے نظام، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ریئل ٹائم تجزیہ اور مشین پر مبنی فیصلہ سازی کی معاونت کو ظاہر کرتی ہے ، جو ان تمام اثاثوں کو زیادہ موثر اور جوابدہ بناتے ہیں۔