ہائیکورٹ کی عمارت سے چھلانگ سے قبل پروٹیکیشن فورس عملہ نے پکڑلیا
حیدرآباد : تلنگانہ ہائیکورٹ میں آج اُس وقت سنسنی پھیل گئی جب ایک خاتون وکیل نے عدالت کی عمارت سے چھلانگ لگاکر خودکشی کرنے کی ناکام کوشش کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ 38 سالہ خاتون وکیل جس کا تعلق گوداوری کھانی سے ہے اس کے ساتھ جنسی استحصال کے ایک مقدمہ میں ناانصافی ہوئی جس سے دلبرداشتہ ہوکر اس نے انتہائی اقدام کرنے کی کوشش کی ۔ چارمینار پولیس کے بموجب گوداوری کھنی سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ مرلی اور خاتون وکیل کی دوستی ہوئی اور دونوں کے درمیان تعلقات قائم ہوگئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مرلی نے خاتون سے شادی کرنے کے بہانے اس کا جنسی استحصال کیا اور وہ حاملہ ہوگئی ۔ شادی سے انکار کرتے ہوئے مرلی نے مبینہ طور پر اسقاط حمل بھی کرنے پر اسے مجبور کیا ۔ اس سلسلہ میں پولیس نے عصمت ریزی کا ایک مقدمہ درج کیا تھا اور مرلی کو گرفتار بھی کیا تھا ۔ خاتون وکیل کی جانب سے متعلقہ عدالت میں مرلی کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی درخواست داخل کرنے کے باوجود بھی ملزم کی ضمانت منظور کرلی گئی تھی اور اس کی جیل سے رہائی عمل میں آئی ۔ اتنا ہی نہیں ایڈوکیٹ مرلی کے خلاف ٹھوس شواہد فراہم کرنے کے باوجود بعض دستاویزات متعلقہ عدالت سے غائب ہوجانے پر وہ پریشان ہوگئی ۔ اپنے مقدمہ کے سلسلہ میں ہائیکورٹ میں درخواست داخل کرنے اور ملزم کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے مطالبہ کیلئے پہنچنے والی خاتون وکیل نے اچانک ہائیکورٹ کی پہلی منزل سے چھلانگ لگاکر خودکشی کرنے کی کوشش کررہی تھی کہ وہاں پر موجود چوکس اسپیشل پروٹیکیشن فورس کے عملہ نے اسے فوری پکڑ لیا اور بعد ازاں اسے نیچے لے آئے ۔ تحقیقات کے دوران یہ معلوم ہے کہ انتہائی اقدام کرنے کی کوشش سے قبل خاتون وکیل نے ایک خودکشی نوٹ بھی لکھا تھا جسے پولیس نے برآمد کرلیا ۔ اس واقعہ کے بعد احاطہ ہائیکورٹ میں سنسنی پھیل گئی اور خاتون پولیس عملہ کو طلب کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس واقعہ کو ہائیکورٹ کے ججس کے علم میں لایا گیا ہے ۔