مودی کی سیاست
حیدرآباد۔3۔جنوری(سیاست نیوز) 2023کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی شمالی ہند سے زیادہ وقت جنوبی ہند کی ریاستوں میں گذاریں گے! ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کے اب تک کے منصوبہ کے مطابق جاریہ سال کے دوران ان کے جنوبی ہند میں زائد از 20دوروں کو قطعیت دی جاچکی ہے اور اس کے علاوہ مزید 20تا25 دوروں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ان کے بیشتر دورے جنوبی ہند کی ریاستوں کرناٹک ‘ تلنگانہ اور تمل ناڈو میں ہوں گے اور سب سے زیادہ دورے تلنگانہ اور کرناٹک کے ہوں گے کیونکہ دونوں ہی ریاستوں میں جاریہ سال کے وسط اور اواخر میں انتخابات ہونے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی تلنگانہ اور کرناٹک کے درمیان سڑک کے ذریعہ بھی مسافت طئے کرسکتے ہیں تاکہ دونوں ریاستوں کے سرحدی علاقو ںمیں موجود رائے دہندوں تک رسائی حاصل ہوسکے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ذرائع کے مطابق ریاست تلنگانہ اور کرناٹک میں وزیر اعظم کے دورے صرف انتخابی تشہیر کے لئے نہیں ہوں گے بلکہ وہ بعض سرکاری دوروں پر بھی ان ریاستوں کا دورہ کریں گے ۔ پڑوسی ریاست کرناٹک جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں ہے وہاں انتخابات کے اعلان سے قبل مرکزی حکومت کی جانب سے ترقیاتی کاموں کے آغاز اور مکمل کئے گئے کاموں کے افتتاح کے لئے بھی نریندر مودی کو مدعو کیا جاسکتا ہے اور حکومت کرناٹک کی دعوت پر وزیر اعظم کرناٹک جاتے ہوئے یا کرناٹک سے دہلی واپس ہوتے ہوئے مختصر مدت کے لئے شہر حیدرآباد یا کسی اور مقام پر توقف کرسکتے ہیں علاوہ ازیں جب وہ انتخابی تشہیر میں حصہ لینے کے لئے کرناٹک پہنچیں گے تو اس دوران کہا جار ہاہے کہ وہ کرناٹک کے سرحدی علاقوں میں جو تلنگانہ کی سرحد سے قریب ہے اپنے پروگرامس منعقد کرتے ہوئے دونوں ریاستوں کے عوام تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ حکومت کرناٹک کی جانب سے تیار کئے جانے والے پروگرامس کے سلسلہ میں تلنگانہ بی جے پی کے ذمہ داروں کو واقف کروایا جاچکا ہے تاکہ وہ ان پروگرامس کے مطابق اپنے پروگرامس کے انعقاد کے سلسلہ میں منصوبہ بندی کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کے پروگرامس تلنگانہ میں رکھ سکیں۔ذرائع کے مطابق تلنگانہ ریاستی بی جے پی قائدین ریاست میں وزیر اعظم کے کم از کم 15پروگرامس کے انعقاد کی کوشش کر رہی ہے اور اس سلسلہ میں وہ پارٹی کے انتظامی امور کے ذمہ داروں کو واقف کرواچکی ہے۔بتایاجاتا ہے کہ بی جے پی تلنگانہ میں کم از کم دو اضلاع یا زیادہ سے زیادہ تین اضلاع پر مشتمل متحدہ پروگرامس کے انعقاد کی حکمت عملی تیار کئے ہوئے ہے جبکہ تلنگانہ میں برسراقتدار بھارت راشٹر سمیتی ہر ضلع تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔م