جو لوگ پارٹی چھوڑنا چاہتے ہیں، وہ21 جولائی سے پہلے چھوڑ دیں:ممتا بنرجی

   

کولکاتا 16 جولائی (یواین آئی) مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے جمعرات کو پارٹی چھوڑنے کا ارادہ رکھنے والے قائدین کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ پارٹی سے الگ ہونا چاہتے ہیں تو 21 جولائی کو ‘شہید دیوس’ ریلی سے پہلے ہی ایسا کر لیں۔حالیہ عرصہ میں کئی سابق وزراء، ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ اور سینئر لیڈر ترنمول کانگریس چھوڑ چکے ہیں۔ ان میں تازہ ترین نام راجیہ سبھا رکن کوئل ملک عرف رکمنی کا ہے ، جنہوں نے آج اپنا استعفیٰ دے دیا۔ پارٹی کا ایک گروپ پہلے ہی رتبرتا بنرجی کے گروپ کے ساتھ جا چکا ہے ، جبکہ سابق وزیر مدن مترا نے بھی حال میں پارٹی تبدیل کر لی ہے ۔ اسی دوران سابق وزیر منیش گپتا نے بھی پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ممتا بنرجی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ جو لوگ پارٹی چھوڑنا چاہتے ہیں، وہ پارٹی کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کی بجائے 21 جولائی سے پہلے ہی مخالف خیمے میں شامل ہو جائیں۔انہوں نے کہاکہ جو لوگ پارٹی چھوڑنا چاہتے ہیں، وہ 21 جولائی سے پہلے ایسا کر لیں، لیکن یہ ہرگز نہ سمجھیں کہ پارٹی کو بدنام کرکے آپ اپنی عزت بڑھا رہے ہیں۔ اگر ضرورت ہو تو اپنے خاندان کو بچا لیں۔ آپ کا خاندان، جائیداد اور اثاثے ہی بی جے پی کے پیکیج کا حصہ ہیں۔پارٹی کے نام اور انتخابی نشان سے متعلق تنازعہپر بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنا نام یا انتخابی نشان تبدیل کر سکتی ہیں، لیکن سیاسی طاقت کے زور پر ان کے نظریات، مقاصد اور اصولوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے یہ بات کلکتہ ہائی کورٹ کی جانب سے ترنمول کے کالی گھاٹ گروپ کو 21 جولائی کو برلا پلانیٹیریم کے سامنے ریلی کی اجازت کے ایک دن بعد کہی۔ممتا بنرجی نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرکے خدشہ ظاہر کیا کہ آیا انتظامیہ اس پر غیر جانبداری سے عمل کرے گا یا نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لوگوں کو ریلی میں شرکت سے روکنے ڈرایا ‘دھمکایا جا رہا ہے اور کئی مقامات پر پولیس اہلکار حامیوں کو ریلی میں نہ جانے کی تنبیہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مجھے معلوم ہے کہ پولیس لوگوں سے کہہ رہی ہے کہ وہ ریلی میں نہ جائیں اور انہیں روکا جا رہا ہے ۔ میں انتظامیہ سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ غیر جانبدار رہے اور کسی ایک فریق کی طرح کام نہ کرے ۔ اگر دہلی میں حالات بدلتے ہیں تو یہاں کے حالات بھی تبدیل ہوں گے ۔