جوبلی ہال کے قریب واقع 165 سالہ قدیم کنویں کی زبوں حالی

   

بلدیہ اور واٹر ورکس حکام کی لاپرواہی، ڈائرکٹر ہارٹیکلچر نے کچھوؤں کو بچانے نمائندگی کی

حیدرآباد۔ 24 نومبر (سیاست نیوز) باغ عامہ کے حدود میں واقع 165 سالہ قدیم تاریخی کنویں کو بچانے کے لئے حکام کے تساہل پر جہدکاروں نے ناراضگی جتائی ہے۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل کے قریب واقع اس کنویں میں آلودگی کے نتیجہ میں کچھوؤں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ سماجی کارکن عابد علی اور مارننگ واکرس کی جانب سے اس سلسلہ میں ڈائرکٹر ہارٹیکلچر کو توجہ دلائی گئی تھی۔ ڈائرکٹر ہارٹیکلچر نے زونل کمشنر، سنٹرل زون جی ایچ ایم سی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کنویں میں ڈرینیج کے پانی کے بہاؤ کو روکنے کے لئے اقدامات کی خواہش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف محکمہ جات ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں حالانکہ اس تاریخی باؤلی کو فوری طور پر بچانے کی ضرورت ہے تاکہ آلودگی پر قابو پایا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کنویں میں کئی کچھوے ہیں جو آلودگی کے سبب پانی میں رہنے کی بجائے کنویں کے باہر گھوم رہے ہیں۔ ڈرینیج کا پانی کنویں میں داخل ہو رہا ہے جو مارننگ واکرس کے لئے بھی تکلیف کا باعث ہے۔ ڈائرکٹر ہارٹیکلچر نے جی ایچ ایم سی عہدیداروں کو فوری کارروائی کی خواہش کی لیکن ایک ہفتہ گذرنے کے باوجود عہدیداروں نے اس کام میں کوئی پیشرفت نہیں کی ہے۔ ڈائرکٹر ہارٹیکلچر نے منیجر حیدرآباد میٹرو واٹر سپلائی اینڈ سوریج بورڈ کو علیحدہ مکتوب روانہ کرتے ہوئے باؤلی میں ڈرینیج کے پانی کو روکنے کی خواہش کی۔ جہدکاروں نے واٹر ورکس اور جی ایچ ایم سی کے رویہ پر ناراضگی جتائی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس جانب فوری توجہ نہیں دی گئی تو باؤلی میں موجود کئی کچھوے فوت ہو جائیں گے۔ جہدکاروں نے حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سے اس جانب توجہ کی اپیل کی ہے۔ 1