جہانگیر پوری میں مسلم خاندانوں کو غیر مقامی قرار دینے کی سازش

   

مغربی بنگال ، یوپی اور بہار سے تعلق ، ہندوستانی شہریت کا دستاویزی ثبوت موجود
حیدرآباد۔22 ۔ اپریل (سیاست نیوز) نئی دہلی کے جہانگیر پوری میں حالیہ تشدد کا نشانہ بننے والے کئی خاندان ایسے ہیں جن کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔ ان کی ہندوستانی شہریت کے بارے میں شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے ، تاہم ان خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ہندوستانی شہریت کو دستاویزات کے ذریعہ ثابت کرسکتے ہیں اور وہ بنگلہ دیش یا روہنگیا سے آنے والے پناہ گزین نہیں ہیں۔ جہانگیر پوری میں مسلم اکثریتی سی بلاک کا علاقہ مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے خاندانوں پر مشتمل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض سیاستداں انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور بنگلہ دیش اور روہنگیا سے غیر قانونی طور پر مداخلت کار کی حیثیت سے پیش کیا جارہا ہے۔ ان کا بنگلہ دیش روہنگیا اور مائنمار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کی آبا و اجداد مغربی بنگال کے ہوڑہ ، مدنا پور اور ہلدیا علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بعض خاندانوں کا تعلق بہار اور اترپردیش سے ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات میں مبینہ طورپر ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کئے گئے ذاکر کے بھائی 19 سالہ شاکر نے کہا کہ حکام نے انہیں ہندوستان میں غیر قانونی مداخلت کار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے دستاویزی ثبوت کے ذریعہ غلط ثابت کیا۔ وہ مغربی بنگال سے نئی دہلی منتقل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ فسادات کے بعد ہمیشہ مسلمانوں کو بنگلہ دیش اور روہنگیا سے جوڑنے کی کوششیں افسوسناک ہے۔ شاکر نے سوال کیا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے مقیم ہیں لیکن حکومت کی سرپرستی میں انہیں شبہ کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی بے قصور ہیں۔ تشدد کے دن ان کے بھائی گڑبڑ کی تفصیلات جاننے کیلئے گھر سے باہر گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ فسادات میں ان کا کوئی رول نہیں۔ 50 سالہ شمشیر نے کہا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف مہم سے خوفزدہ نہیں ہے کیونکہ جہانگیر پوری علاقہ کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی ختم کرنے کیلئے مخصوص گوشہ سے مہم چلائی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ چار دہوں سے زائد عرصہ سے وہ مقیم ہیں۔ میرے والد مغربی بنگال کے مدنی پور سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارے پاس ووٹر شناختی کارڈ اور آدھار موجود ہے۔ جہانگیر پوری کے مکینوں نے ان کے خلاف چلائی جانے والی مہم پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر حکام کو غیر قانونی افراد اور تعمیرات کے خلاف کارروائی میں سنجیدگی ہے تو پھر دوسرے علاقوں کا رخ کیوں نہیں کیا جاتا۔ صرف جہانگیر پوری میں کارروائی کیوں کی جارہی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ووٹ مانگنے کیلئے آنے والے سیاستدانوں کو الیکشن کے وقت اس بات کا خیال نہیں آتا کہ جہانگیر پوری کے مکین مقامی ہیں یا غیر مقامی۔ر