جی ایچ ایم سی 6 ہزار 238 کروڑ روپئے کا مقروض

   

سالانہ 400 کروڑ روپئے سود کی ادائیگی، متحدہ ریاست میں بلدیہ فاضل بجٹ کا حامل

حیدرآباد۔ 23 ڈسمبر (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن 6,238 کروڑ روپئے کا مقروض ہوگیا ہے۔ اسمبلی میں ریاستی حکومت کی جانب سے پیش کردہ وائیٹ پیپر میں جی ایچ ایم سی کے قرضوں کی تفصیلات پیش کی گئی ہے۔ ان میں 1332 کروڑ روپئے ریاستی حکومت کی ضمانت پر اسپیشل پرپز وہیکل (ایس پی بی) کے تحت قرض کے طور پر حاصل کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ 4906 کروڑ روپئے جی ایچ ایم سی نے حکومت کی ضمانت کے بغیر راست طور پر حاصل کی ہے۔ متحدہ ریاست میں کانگریس کے دورحکومت میں فاضل بجٹ رکھنے والا جی ایچ ایم سی بی آر ایس کے ساڑھے نو سالہ دورحکومت میں 6 ہزار کروڑ روپئے کے قرض میں غرق ہوگیا۔ اسٹریٹیجک روڈ ڈیولپمنٹ پروگرام (SRDP) کیلئے 8.65 فیصد سود پر اسٹیٹ بینک آف انڈیا سے 2500 کروڑ روپئے، جامع روڈ مینٹیننس پروگرام (CRMP) کیلئے 7.20 فیصد سود پر 1460 کروڑ روپئے پھر ایک مرتبہ (SRDP) کاموں کیلئے بانڈز کے ذریعہ 8.90 فیصد سود کے ساتھ 490 کروڑ روپئے 9.38 فیصد سود کے ساتھ 200 کروڑ اس طرح مختلف مرحلوں پر قرض حاصل کیا گیا۔ ان قرضوں پر سالانہ 400 کروڑ روپئے سے زیادہ سود ادا کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس اینڈ سیوریج بورڈ، حیدرآباد میٹرو ریل لمیٹیڈ نے بھی قرض حاصل کیا ہے۔ مختلف کاموں کیلئے حاصل کئے گئے قرض پر حکومت نے ضمانت دی ہے۔ واٹر ورکس نے جہاں 2,352 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا وہیں میٹرو ریل لمیٹیڈ نے 286 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے۔ اس کیلئے بھی حکومت نے ضمانت دی ہے۔ گذشتہ 8 سال کے دوران بی آر ایس حکومت نے جی ایچ ایم سی کو ایک پیسہ بھی نہیں دیا ہے۔
ریاستی بجٹ میں جی ایچ ایم سی کو ہر سال فنڈز مختص کرنے کے باوجود کبھی جاری نہیں کیا۔ پہلے سال 2014-15ء کے بجٹ میں بلدیہ کیلئے 3,75,39 کروڑ روپئے مختص کئے گئے جس میں صرف 288.14 کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ن