جی ایچ ایم سی حدود میں آوارہ کتوں کی بھر مار

   

حیدرآباد ۔ 19 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : گریٹر حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں کے حملے میں معصوم بچے زخمی ہورہے ہیں ۔ جس سے شہریوں میں خوف کا ماحول پیدا ہورہا ہے۔ ہر چند دن میں کتوں کے حملہ میں بچوں اور بڑوں کے زحمی ہونے کی اطلاع مل رہی ہیں ۔ نارائن گوڑہ انسٹی ٹیوٹ آف پریونیٹو میڈیسن میں کتوں کے کاٹنے کے بعد علاج کے لیے لمبی قطار سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتے کتنے خطرناک ثابت ہورہے ہیں ۔ اینٹی برتھ کنٹرول آپریشن کے بعد ریبنیر کے ٹیکے لگانے میں کوتاہی کی جارہی ہے ۔ اے بی سی کی کارروائیوں کو بڑھانے کے لیے جی ایچ ایم سی تینوں زونس میں جانوروں کی پناہ گاہیں قائم کرنے میں بھی سستی کامظاہرہ کررہے ہیں ۔ جی ایچ ایم سی کے علاقہ میں 3.79 لاکھ آوارہ کتوں کی نشاندہی کی گئی ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان کتوں میں صرف 77 فیصد کو جراثیم سے پاک کیا گیا ہے ۔ نس بندی ویکسنیشن ، آگاہی پروگرام اور دیگر جانوروں کی فلاحی پروگرام کے انعقاد کے علاوہ تین سالوں میں 29.67 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔ جانوروں کے برتھ کنٹرول ABC اور اینٹی ریبینر پروگراموں پر کروڑوں روپئے خرچ کئے گئے ۔ تاہم یہ قابل ذکر ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 70 فیصد کتوں کے آپریشن نہیں کئے گئے ۔ 2023 میں ہائی کورٹ نے عنبر پیٹ کے چار سالہ بچے کو کتوں کے کاٹنے کے معاملے کو قبول کیا ۔ اس کیس کے پس منظر میں ہائی کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا گیا جس میں کتوں کے کنٹرول کے اخراجات اور خطرناک کتوں کو مارنے کی اجازت مانگی گئی ۔ اس ترتیب میں آوارہ کتوں سے نمٹنے کے لیے جی ایچ ایم سی نے ایک نیا طریقہ کار اختیار کیا ہے ۔ جی ایچ ایم سی نے ہائی کورٹ سے اگر رحم کے قتل کی اجازت دیتی ہے تو اس عمل کو انیمل ویلفیر بورڈ اف انڈیا کے ضوابط کے مطابق مکمل کرے گی ۔ 2008 میں ممبئی ہائی کورٹ اور 2015 میں کیرالا ہائی کورٹ نے کتوں کو رحم کرنے کی اجازت دی تھی ۔ جی ایچ ایم سی انیمل ویلفیر آرگنائزیشن کو مالی اور لاجسٹک مدد فراہم کرتا ہے جو کتوں کے کنٹرول کیلئے نس بندی اور اینٹی ریبنیر ویکسینیشن پروگرام چلاتی ہیں ۔ کتوں کے آپریشن اور دیگر پروگراموں کیلئے گزشتہ پانچ سالوں میں 9.18 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔۔ش