جیشا ریپ قتل کیس: سپریم کورٹ نے مجرمکی سزائے موت پر لگائی روک

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آسام کے مہاجر مزدور محمد امیر الاسلام کی سزائے موت پر روک لگا دی ہے۔ اسے کیرالا میں اپریل 2016 میں دلت قانون کی طالبہ جیشا سوریا کی عصمت دری اور قتل میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔جسٹس بی آر گاوائی، جسٹس سنجے کرول اور جسٹس کے وی وشواناتھن کی بنچ نے 16 جولائی کے اپنے حکم میں کہا کہ موجودہ اپیل کی سماعت اور حتمی فیصلے تک موت کی سزا پر روک رہے گی۔عدالت مجرم کی اپیل پر غور کر رہی تھی جس میں کیرالا ہائی کورٹ کے 20 مئی 2024 کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا، جس نے نچلی عدالت کی طرف سے سنائی گئی موت کی سزا کی توثیق کی تھی۔۔28 اپریل 2016 کو ارناکولم ضلع کے پیرومباور سے تعلق رکھنے والی قانون کی 30 سالہ طالبہ جیشا کی وحشیانہ عصمت دری اور قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد کیرالا میں زبردست غصہ تھا۔ اس کیس کے واحد ملزم اسلام کو واقعہ کے 49 دن بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ سے کیس کا اصل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ، سنٹرل جیل اور ریفارم ہوم کو آٹھ ہفتوں کا وقت دیا ہے، جہاں مجرم قید ہے، جیل میں اس کے کام کی نوعیت اور جیل میں اس کے طرز عمل اور رویے سے متعلق رپورٹ پیش کرے۔
بنچ نے گورنمنٹ میڈیکل کالج، تھریسور سے کہا کہ وہ مجرم کا نفسیاتی جائزہ لینے اور رپورٹ پیش کرنے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دے۔عدالت نے ہدایت کی کہ سزا سے متعلق معلومات اکٹھا کرنے کے مقصد سے اس کے ساتھ ذاتی انٹرویوز کیے جائیں اور مجرم کی جانب سے اس کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کے ذریعے 12 ہفتوں کے اندر تخفیف کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جائے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ رازداری کو یقینی بنانے کے لیے انٹرویوز الگ جگہ پر کیے جائیں گے، جہاں کوئی جیل اہلکار یا پولیس اہلکار موجود نہیں ہوگا۔سوریا کی مسخ شدہ لاش اس کی ماں کو ملی۔ جب اس کے تشدد کی تفصیلات سامنے آئیں تو کیرالا میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پھیل گیا اور لوگ مختلف مقامات پر سڑکوں پر نکل آئے تھے۔