جیلوں میں قیدیو ں کے حاملہ ہونے پر حکومت سے جواب طلبی

   

کولکاتا : کلکتہ ہائی کورٹ نے ریاست کی جیلوں میں خواتین قیدیوں کے حاملہ ہونے کے معاملے میں ایک بار جواب طلب کیا ہے ۔جسٹس جے مالیہ باگچی اور جسٹس اجے کمار گپتا کی ڈویژن بنچ نے جمعہ کو کہا کہ ریاستی انتظامیہ کو 5 اپریل تک ریاستی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد اور سیکورٹی سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔اسٹیٹ لیگل ایڈ سروس (SLAS) سے کہا گیا ہے کہ وہ اسی مدت کے اندر ریاست کی 1,379جیلوں کی موجودہ صورتحال پر رپورٹ پیش کرے ۔ اس کے علاوہ عدالت نے جیلوں کے حالات پر نظر رکھنے کے لیے ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل (اے جی) اور دیگر سرکاری وکلاء پر مشتمل ایک کور کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے ۔قبل ازیں کلکتہ ہائی کورٹ نے ریاست کی جیل میں خواتین قیدیوں کے حاملہ ہونے کے معاملے میں ملوث تمام فریقین سے رپورٹ طلب کی تھی۔ 20 فروری کو جسٹس باگچی اور جسٹس گورنگا کانٹر کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ ریاست کو تمام فریقین کے ساتھ میٹنگ کرنی چاہیے ۔ ریاستی اے جی کو 8 مارچ کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا جو سامنے آیا۔ اس کے علاوہ جسٹس باگچی نے یہ بھی کہا کہ عدالت حمل کے ٹیسٹ کا حکم نہیں دے گی۔اس معاملے میں جسٹس باگچی نے تبصرہ کیا کہ‘‘ہمیں معلوم ہے کہ اس طرح کے واقعے کا معاشرے پر کیا اثر ہوتا ہے ۔ وہ خواتین پہلے ہی جیل میں ہیں۔ اس صورت حال میں اس طرح کے واقعات ان کو اور بھی بدنام کرتے ہیں۔ اس واقعہ کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ذمہ دار عہدوں پر فائز لوگوں کے لیے اس بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے ۔خواتین کے لیے کوئی علاحدہ سڑک یا داخلی راستہ کیوں نہیں ہے ۔اس کی وجہ سے مرد قیدی اکثر خواتین قیدی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کرتے ہیں ۔اسے روکنے کی ضرورت ہے ۔