جے این ٹی یو میں ٹکنالوجی کا عدم استعمال

   

طلبہ کو آف لائن فیس ادائیگی میں مشکلات ، اسٹاف کی کمی سے تعلیم پر اثر
حیدرآباد۔8اپریل۔(سیا ست نیوز) جواہر لعل نہرو ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی میں ٹیکنالوجی کا عدم استعمال طلبہ اور اولیائے طلبہ و سرپرستوں کے لئے درد سر بنا ہوا ہے ۔ یونیورسٹی میں طلبہ کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہاہے لیکن ان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کوئی اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں ۔جواہر لعل نہرو ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی شائد ملک میں اب واحد ایسی یونیورسٹی رہ گئی ہے جہاں اب بھی آن لائن فیس وصول نہیں کی جاتی بلکہ طلبہ اور سرپرستوں کو فیس جمع کروانے کے لئے قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے اور کھڑکی پر فیس جمع کروانے کا نمبرآنے تک وقت ختم ہوجاتا ہے۔اس کے علاوہ طلبہ کومعیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے یونیورسٹی کالج میں سب سے پہلے خاطر خواہ تدریسی عملہ کی ضرورت ہوتی ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جانے ہوتے ہیں لیکن یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود ریاستی حکومت کی جانب سے تقررات کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ یونیورسٹی میں منظورہ 400 تدریسی وغیر تدریسی عملہ کی جائیدادوں میں زائد از 200جائیدادوں پر کنٹراکٹ کے اساس پر ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں اور بتدریج لکچررس کے وظیفہ حسن پر سبکدوش ہونے کے بعد تدریسی عملہ کی قلت پیدا ہونے لگی ہے جس کے سبب کئی طلبہ کو کلاسس سے استفادہ کا موقع میسر نہیں آرہا ہے۔جے این ٹی یو کے تحت ریاست تلنگانہ میں سینکڑوں انجنیئرنگ اور دیگر پروفیشنل کالجس کو الحاق فراہم کیاگیا ہے اور اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ جے این ٹی یو کالج میں یہ صورتحال پیدا ہونے لگی ہے تو ملحقہ کالجس پر یونیورسٹی حکام کی جانب سے کی جانے والی سختیوں کا کوئی جواز ہی باقی نہیں رہ جاتا۔م