قاری محمد عبدالقیوم شاکر
اللہ رب العزت نے انسان کواشرف المخلوقات بنایا اور پھر اُن کی رہنمائی کیلئے تقریباً سوالاکھ انبیائے کرام کو مبعوث فرمایااورنبی رحمت حضرت محمد مصطفیؐ کو نبی آخرالزماں بنایا۔ جیسا کہ آپؐ نے فرمایا تین زمانے میرا،میرے صحابہؓ،پھر اُن کے بعد تابعین کاہدایت والے ہیں۔ اس کے بعد کے ادوار میں رشد و ہدایت کے کام اللہ کے نیک بندوں سے ہوتا رہا اورہر زمانہ میں علمائے کرام و ائمہ عظام اور بزرگان دین نے اُمت مسلمہ کو دین سے قریب لانے کا کام انجام دیا۔ ان ہی میں سے ایک خدا پرست اللہ پرتو کل اور پابندشریعت نہایت نفیس طبیعت کے حامل ہستی اور تقوی و پرہیزگار والی شخصیتیں حضرت مولانا محمد حسام الدین فاضل ؒاور اُن کے فرزند امیر ملت اسلامیہ آندھرا پردیش بانی ومہتمم جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدر آباد حضرت مولانا محمد حمید الدین عاقل حسامی ؒہیں۔
مولانا عاقل ؒنے ۶۰ سال سے زائد عرصہ تک قوم و ملت کی رہنمائی فرمائی اور حیدرآباد کی قدیم و معروف عیدگاہ میر عالم میںعید الفطر و عید ااضحی کے موقع پر خطاب فرمایا اور ہرجمعہ کو جامع مسجد دارالشفاء میں قبل نماز جمعہ خطاب کرتے ہوئے حکومت کو اس کی غلطیوں اورغلط پالیسیوں سے مکمل طور پر آگاہ کرتے تھے۔ تقوی وپر ہیز گاری آپؒ کا طرہ امتیازتھا اوربے باکی ، نڈرپن اور مظلوموں کیلئے ڈٹ جانا آپ کا خاصا تھا اور حق گوئی رگوں میں خون کی طرح دوڑتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ ایمرجنسی کے زمانہ میں حکومت نے فیملی پلاننگ (نس بندی)قانون کو نافذ کرتے ہوئے اگلا بچہ ابھی نہیں دوکے بعد کبھی نہیں کا نعرہ دیا تھا جس کے جواب میں مولانا عاقل حسامی ؒ نے مذکورہ قانون کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے اگلا بچہ ابھی ابھی ۱۲ کے بعد کبھی کبھی کا نعرہ دیا جس پر حکومت نے آپؒ کو جیل بھیج دیاجہاں وہ ۹ماہ قید رہے ۔ مولا نا عاقل ؒکی شخصیت اتنی مقناطیسی تھی کہ ہر کوئی ایک بار ملتا تووہ بار بار ملنے کاموقع تلاش کرتا۔ انہوں نے کئی بار مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے ائمہ کرام اور عرب سفراء کو مدعو کیا۔مولانا عاقلؒ نے بے تکان گاؤں، گاؤں، قریہ، قریہ اور وہ علاقے جہاںصرف پیدل ہی جاسکتے تھے وہاں پہنچ کر دین اسلام کی بات پہنچائی۔ اللہ تعالیٰ نے مولانا عاقلؒ کویہ اعزاز بھی عطا کیا کہ جب کبھی کوئی معاملہ مسلمانوں کے با رے میں پیدا ہوتا تو سارے مسلمان مولانا عاقلؒ کے موقف کو دیکھتے ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آپ کے موقف کی مکمل تائید کرتے ۔ آپ جس جلسہ میں شریک ہوتے وہ کامیابی سے ہمکنار ہوتا ۔ مولانا عاقلؒ اپنے خطاب کے دوران ہرتھوڑی دیر سے لوگوں کی دلچسپی کیلئے سبق آموزلطائف سنا تے جس پر مجمع لطف اندوزہوتا۔ مولاناعاقلؒ ملک کا عظیم و تمام مکاتب فکر علمائے کرام پرمشتمل پر وقا ر ا دارہ آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے تاحیات بانی رکن اور بورڈ کی ذیلی کمیٹیوں کے بھی ذمہ دار رہے۔مولانا عاقلؒ واعظ و ناصح کے علاوہ لوگوں کو کتاب وسنت کے طریقوں پر عمل کرنے کی خوب ترغیب بھی فرماتے ۔ ۲۵؍ ربیع الاول ۱۴۳۱ ھ جمعہ کو آپ ؒ کی وفات ہوئی ۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت مولانا عاقلؒ کے درجات کوبلند فرما ئے اور آخرت میںپیارے آقا حضور نبی کریم ﷺ کی قربت عطافرمائے۔ آمین۔