سابق رکن کونسل راملو نائک کا استدلال، ہر منڈل کے لیے ایک وزیر حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت
حیدرآباد۔ 26ستمبر (سیاست نیوز) سابق رکن کونسل راملو نائک نے کہا کہ حضورنگر سے ٹی آر ایس کی کامیابی دراصل کے سی آر خاندان کو فائدہ بخش ثابت ہوگی لہٰذا جمہوریت کی کامیابی کے لیے کانگریس امیدوار کو کامیاب کیا جائے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے راملو نائک نے کہا کہ کے ٹی راما رائو نے حضور نگر میں کانگریس کی کامیابی کو اتم کمار ریڈی اور ان کے خاندان کی کامیابی سے تعبیر کیا جو انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت میں کانگریس کی کامیابی عوام کی کامیابی ہوگی جبکہ ٹی آر ایس کو کامیاب کرنا ایک خاندان کو کامیاب بنانے کے مترادف ہے۔ راملو نائک نے کہا کہ ٹی آر ایس پارٹی حضور نگر میں شکست کے خوف سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور فرضی انتخابی سروے کے نام پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ رامو نائک نے کہا کہ کے ٹی آر حضور نگر میں 55 فیصد تائید ٹی آر ایس کے حق میں ظاہر کررہے ہیں جبکہ کانگریس کو 42 فیصد تائید کی پیش قیاسی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹی آر ایس کامیابی حق ہے تو پھر ہر ایک منڈل کے لیے ایک وزیر سے انچارج مقرر کیوں کیا گیا۔ پارٹی کے 30 سینئر قائدین کو حلقے میں انچارج کیوں مقرر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر خود حلقے کے دورے کی تیاری کررہے ہیں۔ حضورنگر میں 51 ہزار رکنیت سازی کا دعوی کیا جارہا ہے اور اگر ایک رکن پانچ ووٹ بھی پارٹی کے حق میں یقینی بنائے تو ٹی آر ایس کو تین لاکھ ووٹ حاصل ہوں گے۔ اس کے باوجود خوف کی کیا وجہ ہے۔ راملو نائک نے کہا کہ دراصل 2014 اور 2018ء کے وعدوں کی عدم تکمیل کے سبب ٹی آر ایس کو شکست کا خوف لاحق ہے۔ بے روزگار نوجوان گزشتہ پانچ برسوں سے روزگار کے انتظار میں ہیں۔ خواتین کو 100 روپئے کی بتکماں ساڑی نہیں بلکہ فلاحی اسکیمات میں حصہ داری چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پدماوتی ریڈی کامیابی سے نہ صرف جمہوریت مستحکم ہوگی بلکہ ایوان میں ایک خاتون کی عوام کے حق میں آواز میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر حضور نگر میں پانچ دن قیام کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ ٹی آر ایس لاکھ کوشش کرلے لیکن طلبہ ، خواتین، کسان اور سرکاری ملازمین نے حکومت کو سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ راملو نائک نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا برخلاف اس کے تمام اہم عہدے ایک خاندان میں تقسیم کییے گئے۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی پراجیکٹس میں ہزاروں کروڑ روپئے کی دھاندلیاں ہوئیں ہیں۔ راملو نائک نے کہا کہ تلنگانہ تحریک دراصل عزت نفس کے لیے لڑی گئی تھی اور پانی اثاثہ جات اور ملازمتوں میں ناانصافی کے خلاف عوام میں آندھرائی طاقتوں کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ عوام کو امید تھی کہ نئی ریاست میں انہیں انصاف ملے گا لیکن کے سی آر نے مایوس کردیا۔