نیویارک: اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر نے پیر کے روز خبردار کیا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے اسرائیل پر میزائل حملے نہ روکے تو حوثیوں کو بھی اسی خطرے کا سامنا ہوگا جس قابل رحم قسمت سے حماس اور حزب اللہ کے بعد بشار الاسد کو گزرنا پڑا ہے۔ اسرائیلی سفیر ڈینی ڈانون نے ایران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ‘اسرائیل کے پاس ایسی قوت موجود ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں ایران سمیت کسی بھی ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس لیے اسرائیل ایرانی حمایت یافتہ پراکسیزکے حملوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ اسرائیلی سفیر کے ان خیالات کے محض چند گھنٹوں بعد اسرائیل نے اعلان کیا ہیکہ یمن سے آنے والے میزائل کو روک دیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب حوثیوں کے ایک رہنما نے کہا ہیکہ اسرائیل پر حملے جاری رکھیں جائیں گے۔حوثی رہنما محمد علی الحوثی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا ہیکہ اسرائیل پر حملے جاری رکھ کے غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ محمد علی الحوثی ایرانی حمایت یافتہ گروپ کی سپریم انقلابی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ یمنی حوثی مسلسل اسرائیل کی طرف ڈرون طیاروں اور میزائلوں سے حملے کر رہے ہیں اور وہ اپنے ان حملوں کو فلسطینیوں کے ساتھ حمایت اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار قرار دیتے ہیں۔اسرائیلی سفیرنے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جو کچھ پچھلے ایک سال میں ہوتا رہا ہے حوثیوں نے شاید اس پر توجہ نہیں کی ہے۔ اس لیے مجھے اجازت دی جائے کہ میں انہیں یاد دلا دوں کہ اس عرصے میں حماس کے ساتھ کیا ہوا ہے، حزب اللہ کے ساتھ کیا ہوا ہے اور بشار الاسد کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ یہ وہ تھے جنہوں نے ہمیں تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس لیے ہم آپ کو بھی آخری انتباہ کرتے ہیں اور ہماری یہ دھمکی نہیں ہے، وعدہ ہیکہ تمھارا بھی وہی حال کریں گے جو اس سے پہلے ان کا کر چکے ہیں۔