حوثیوں کیخلاف اپنی فوج کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر نہیں بھیجیں گے؛ ترکیہ

   

انقرہ ۔ 9 اکٹوبر (ایجنسیز) ترکیہ نے واضح کیا ہیکہ وہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے باوجود یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائی کیلئے اپنی فوج کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر نہیں بھیجے گا۔ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے جمعرات کو انقرہ میں اپنے ہنگری ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے جارحانہ کارروائیوں کیلئے نہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ اگر معاہدے میں شامل کسی ملک پر حملہ ہوتا ہے تو دیگر ممالک اس کے دفاع میں اس کا ساتھ دیں گے تاہم ترکیہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر حملہ کرنے کیلئے اپنی فوج نہیں بھیجے گا۔ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیہ اور سعودی فوجی حکام سعودی عرب کی دفاعی ضروریات کا جائزہ لے رہے ہیں اور خاص طور پر فضائی دفاع، برقی جنگی صلاحیتوں اور تکنیکی معاونت کے شعبوں میں ممکنہ تعاون پر غور کیا جارہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ترکیہ پہلے ہی سعودی عرب کو بنیادی طور پر دفاعی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہا ہے جس میں فوجی سازوسامان، انٹلیجنس، نگرانی، جاسوسی، ڈرون آپریٹرز اور دفاعی منصوبہ بندی میں معاونت شامل ہے۔ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم معاہدے کی ترکیہ کی پارلیمنٹ سے توثیق ابھی باقی ہے۔واضح رہیکہ یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حوثیوں نے سعودی شہروں اور تنصیبات پر حملوں میں اضافہ کردیا ہے اور ریاض اپنے اتحادیوں سے دفاعی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔