حکومت چیلنج کر کے دُم دبا کر بھاگ گئی ، ریونت ریڈی خوفزدہ : کے ٹی آر

   

اگر ہمت ہے تو فوری اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کریں ، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا
حیدرآباد ۔ 2 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے چیف منسٹر اور وزراء پر بزدلی کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریونت ریڈی اور ریاستی وزراء کل تک مائیک پر کھڑے ہو کر بی آر ایس کو قرضوں اور ریسیڈنشیل تعلیمی اداروں کے ٹنڈرس پر کھلے عام مباحث کا چیلنج کررہے تھے لیکن وہ آج سچائی کا سامنا کرنے کے خوف سے راہ فرار اختیار کرچکے ہیں اور پولیس کے پیچھے چھپ رہے ہیں ۔ تلنگانہ بھون میں مباحث کیلئے وزیر جوپلی کرشنا راؤ کا انتظار کرنے کے بعد تلنگانہ بھون کے بجائے گن پارک پہونچنے جے کرشنا راؤ کے تازہ دعوت کو قبول کرتے ہوئے وہ تلنگانہ بھون سے باہر نکلتے ہی پولیس نے انہیں روک لیا اور گن پارک جانے کی اجازت نہیں دی ۔ جس پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ چیف منسٹر نے ہمیں چیلنج کیا تھا کہ وہ بی آر ایس کے ساتھ ہر مسئلہ پر بات چیت کرنے کیلئے تیار ہے ۔ ایک بار پھر خوف کے مارے پیچھے ہٹ گئے ہیں ۔ ان کا طریقہ کار بالکل ایسا ہی کہ میں ایک لمحے میں وہاں پہونچ جاؤں گا کا دعویٰ کرنا اور پھر وقت آنے پر اپنی دُم دباکر بھاگ جانا ہے ۔ وزیر جوپلی کرشنا راؤ نے بھی تلنگانہ بھون پہونچکر مباحث کرنے کا چیلنج کیا تھا لیکن وہ بھی اپنے چیلنج سے مکر گئے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس کے تمام سینئیر قائدین صبح 10 بجے ہی تلنگانہ بھون پہونچ چکے تھے اور جے کرشنا راؤ کا انتظار کررہے تھے ۔ ان کیلئے کرسی اور شال بھی تیار رکھی گئی تھی ۔ وزیر کے تلنگانہ بھون نہ پہونچنے پر ہریش راؤ پارٹی کے دیگر قائدین کے ساتھ گن پارک روانہ ہونے کیلئے نکلتے ہی انہیں تلنگانہ بھون کا گیٹ پار کرنے سے پہلے ہی پولیس نے غیر قانونی طور پر گرفتار کرلیا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ حکمران جماعت کے چیلنج کا جواب اور ثبوت دینے کیلئے پہونچنے والے قائدین کو پولیس کے ذریعہ گرفتار کرتے ہوئے حکومت نے بزدلی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کتنی خوفزدہ ہوچکی ہے ۔ انہوں نے چیف منسٹر اور وزراء سے کہا کہ اگر ہمت نہیں تھی تو مباحث کا چیلنج کیوں کیا ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے کہا کہ مباحث کے دوران ہم دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرتے ہوئے عوام کے سامنے حقائق پیش کرنے کی تیاری کررہے تھے ۔ لیکن حکومت نے ڈرامہ بازی کرتے ہوئے بدعنوانیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے ہمارے قائدین کو گرفتار کرادیا ۔ چیف منسٹر کے پاس جرات ہے تو فوری اسمبلی کا خصوصی اجلاس منعقد کریں اور 30 ماہ کی حکمرانی ، بدعنوانیوں ، دھوکہ دہی ، وعدے خلافی کے خلاف اصل اپوزیشن مباحث کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔۔ 2/m/b