حکومت کی آمدنی بڑھانے محکمہ اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن سے تشہیر

,

   

فروخت کنندہ اور خریداروں میں عدم دلچسپی ، مستقبل میں رئیل اسٹیٹ کی تجارت کے فروغ پر تجسس
حیدرآباد۔13مئی (سیاست نیوز) اب تک خانگی کمپنیو ںکی جانب سے کی جانے والی تشہیر کے طرز پر اب ریاست کو بچانے کیلئے محکمہ اسٹامپس اور رجسٹریشن کی جانب سے سہولتوں کی فراہمی کی تشہیر کی جار ہی ہے تاکہ جائیدادوں کی خرید و فروخت کے ذریعہ حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوسکے کیونکہ ریاستی حکومت کی جانب سے اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن کے لئے محکمہ مال کی تمام خدمات کو بحال کردیا ہے اور معمول کے مطابق سب رجسٹرار کے دفاتر خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود جائیدادوں کی خرید و فروخت کے معاملات کم ہی نظر آرہے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے سب رجسٹرار کے دفاتر کی جانب سے جائیدادوں کی خرید و فروخت کرنے والوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ سب رجسٹرار کے دفاتر پہنچنے میں ہونے والی دشواریوں کو دور کرنے کے لئے ان کے واٹس اپ اور ٹول فری نمبرات پر رابطہ قائم کریں تاکہ بروقت ان کی مدد کی جاسکے۔ بتایاجاتا ہے کہ محکمہ مال اور حکومت کو اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن ڈیوٹی سے جو توقعات تھی وہ بھی پوری نہیں ہوئی اور نہ ہی شراب کی فروخت سے جتنی آمدنی کی توقع کی گئی تھی وہ آمدنی ممکن ہوسکی ہے۔ اسی لئے محکمہ اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن کی جانب سے جائیدادوں کی خرید و فروخت کے فروغ کے لئے سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن کہا جارہا ہے کہ طویل مدت کے اس لاک ڈاؤن کے درمیان نہ خریدار کو جائیداد کی خریدی میں دلچسپی ہے اور نہ ہی فروخت کنندہ کو کوئی دلچسپی باقی رہی ہے ۔بعض معاملتوں میں جہاں ضرورت مند اپنی جائیدادوں کی فروخت انجام دے رہے تھے اور خریداروں سے معاہدہ کرچکے تھے وہ ان معاملتوں کی برقراری کی تگ ودو میں لگے ہوئے ہیں جبکہ خریداروں کی جانب سے معاملوں کی تنسیخ میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے کیونکہ اراضیات کے خریداروں کو اس بات کا اندازہ ہوچکا ہے کہ رئیل اسٹیٹ کا مستقبل خطرہ میں پڑچکا ہے اور اب جبکہ اسٹامپس اور رجسٹریشن کے شعبہ کی بحالی کے بعد یہ صورتحال ہے تو مستقبل کے حالات کے سلسلہ میں اندازہ لگایا جانا مشکل نہیں ہے۔رئیل اسٹیٹ شعبہ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر محکمہ اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کی جانب سے اس طرح کی سہولتوں کی فراہمی اور پولیس کی جانب سے رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے ساتھ سرکاری آمدنی میں اضافہ کے اقدامات کئے جا رہے ہیں تو اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں جائیدادوں کی قیمتوں کا کیا حشر ہوگا اور کس طرح سے رئیل اسٹیٹ شعبہ کو تباہی سے بچایا جائے اس کی منصوبہ بندی کے بجائے حکومت کے محکمہ مال کی جانب سے رجسٹریشن کے فروغ کے ذریعہ آمدنی میں اضافہ کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔جائیدادو ںکی معاملتوں کے منسوخ کے ہونے کے سلسلہ میں کہا جار ہاہے کہ خریدارو ںکی جانب سے معاملات کی تنسیخ کا فیصلہ کیا جانے لگا ہے جبکہ فروخت کرنے والوں کی جانب سے قیمتوں پر مفاہمت کی بھی پیش کش کی جانے لگی ہے اس کے باوجود کہا جارہا ہے کہ رئیل اسٹیٹ شعبہ میں جلد کوئی تبدیلی کے آثارنہیں ہیں بلکہ معاشی ابتری کا سنگین اثر جائیدادوں کی خرید و فروخت پر مرتب ہوگا اور ان اثرات سے باہر آنے کیلئے لازمی ہے کہ حکومت کی جانب سے وسیع حکمت عملی کی تیاری کے ذریعہ خریداروں اور فروخت کنندگان کو راحت پہنچانے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ رئیل اسٹیٹ شعبہ میں لین دین کا سلسلہ جاری رہے اور لین کا راست فائدہ حکومت کو ہی حاصل ہوتا ہے جو کہ اسٹامپ رجسٹریشن ڈیوٹی کی شکل میں سرکاری خزانہ میں اضافہ کا سبب بنتا ہے ۔