حکومت کی اجازت کے بغیر اسکولوں میں باقاعدہ کلاسس کا آغاز

,

   

اولیائے طلبہ کی منظوری حاصل، سماجی فاصلہ اور دیگر احتیاطی تدابیر
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے اگرچہ اسکولوں کی کشادگی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے لیکن شہر کے علاوہ اضلاع میں کئی کارپوریٹ اسکولوں میں باقاعدہ کلاسس کا آغاز ہوچکا ہے۔ حیدرآباد کے علاوہ کریم نگر ، نظام آباد اور نرمل میں کئی اسکولوں میں باقاعدہ کلاسس کی اطلاعات ملی ہیں۔ یہ کلاسس صبح 8.30 تا سہ پہر 3.30 بجے تک جاری ہیں جن میں تمام مضامین کے کلاسس شامل ہیں۔ حکومت کی اجازت کے بغیر کارپوریٹ شعبہ کا یہ اقدام کس حد تک درست ہے ، اس بارے میں محکمہ تعلیم کے عہدیدار کچھ بھی تبصرہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کورونا کیسس میں کمی اور اولیائے طلبہ کے اصرار پر باقاعدہ کلاسس شروع کردی گئیں۔ کلاسس کے انعقاد میں سماجی فاصلہ کو برقرار رکھا گیا ہے ۔ اسکولوں سے وابستہ اساتذہ نے راحت کی سانس لی ہے کیونکہ باقاعدہ کلاسس کی صورت میں ان کی تنخواہ مکمل ادا کی جائے گی۔ کئی اسکول انتظامیہ معاشی مسائل کا شکار ہوگئے اور حالیہ لاک ڈاؤن کے دوران کئی خانگی اسکولس بند ہوچکے ہیں۔ باقاعدہ کلاسس کے سلسلہ میں اولیائے طلبہ سے رضامندی مکتوب حاصل کیا جارہا ہے تاکہ بعد میں کوئی مسائل پیدا نہ ہوں۔ طلبہ کو اسکول روانہ کرنے کے ساتھ ساتھ فیس کی ادائیگی کیلئے اصرار کرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ اسکول انتظامیہ ٹیوشن فیس میں کمی کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا۔ کئی اسکولوں نے چھٹویں جماعت سے کلاسس کا آغاز کردیا جبکہ بعض اسکولوں نے نویں جماعت سے کلاسس شروع کی ہیں۔