حیدرآباد انکاؤنٹر: سپریم کورٹ اپنے سابق جج کے ذریعہ تحقیقات کا خواہاں

   

جج کا اجلاس دہلی میں رکھنے کا منصوبہ، مفاد عامہ کی درخواستوں پر عدالت عظمیٰ کی رولنگ

فرضی انکاؤنٹر کا الزام،پولیس کے خلاف
مقدمہ درج کرنے دو وکلاء کامطالبہ

نئی دہلی۔/11 ڈسمبر، ( پی ٹی آئی) سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کو کہا کہ تلنگانہ میں ایک ویٹرینری ڈاکٹر کی اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کے مقدمہ کے 4 ملزمین کی انکاونٹر میں ہلاکت کی تحقیقات کیلئے وہ عدالت عظمیٰ کے ایک سابق جج کے تقرر پر غور کررہا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے کی زیر قیادت ایک بنچ نے کہا کہ ’’ ہم اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے اس واقعہ کا نوٹ لیا ہے۔عدالت عظمیٰ چاہتی ہے کہ دہلی میں موجود کسی سابق جج کے ذریعہ ہی اس واقعہ کی تحقیقات کی جائیں۔‘‘ اس بنچ نے جس میں جسٹس ایس اے نذیر اور جسٹس سنجیو کھنہ بھی شامل ہیں مزید کہا کہ ’’ اس واقعہ کی تحقیقات کیلئے ہم نے سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کے تقرر کی تجویز رکھی ہے۔‘‘ یہ جج جو واقعہ کی تحقیقات کریں گے اُن کا اجلاس دہلی میں رہے گا۔ بنچ نے مفاد عامہ کی ایک درخواست جو اس انکاؤنٹر کی آزاد خصوصی تحقیقاتی ٹیم ( ایس آئی ٹی ) کے ذریعہ کروانے کی استدعا کے ساتھ پیش کی گئی تھی، آئندہ سماعت جمعرات کو مقرر کی ہے۔ حکومت تلنگانہ کی طرف سے رجوع ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی اور ایڈوکیٹ کرشنا کمار سنگھ نے کہا کہ انکاؤنٹرس کی تحقیقات کیلئے عدالت عظمیٰ کی طرف سے دی گئی ہدایات کی پابندی کی گئی ہے اور مقدمہ کو پہلے ہی ریاستی سی آئی ڈی سے رجوع کردیا گیا ہے۔ دو وکلاء جی ایس منی اور پردیپ کمار یادو کے علاوہ ایک اور سینئر ایڈوکیٹ ایم ایل شرما نے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کے تحت دو درخواستیں دائر کرتے ہوئے انکاؤنٹر کی آزادانہ تحقیقات کی اپیل کی تھی۔ منی اور یادو کی درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ انکاؤنٹر ’ فرضی ‘ تھے اور اس واقعہ میں ملوث پولیس عہدیداروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جانا چاہیئے۔ تلنگانہ پولیس نے جمعہ کو کہا تھا کہ واقعہ کے ملزمین پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلہ میں ہلاک ہوئے تھے۔