حیدرآباد میٹرو ریل کے ٹکٹنگ اسٹاف کی اچانک ہڑتال سے خدمات متاثر

   


تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ، ریکروٹنگ ایجنسی کے ملازمین پر انتظامیہ کا سخت موقف
حیدرآباد۔/3 جنوری، ( سیاست نیوز) حیدرآباد میٹرو ریل کی خدمات آج اس وقت جزوی طور پر متاثر رہیں جب حیدرآباد میٹرو ریل لمیٹیڈ کے ملازمین نے تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈیوٹی کے اوقات میں دھرنا منظم کیا۔ ملازمین کے احتجاج کے سبب آن لائن ٹکٹنگ خدمات متاثر ہوئیں۔ احتجاجیوں کے مطابق انہیں تقریباً 11 ہزار روپئے ماہانہ ادا کئے جارہے ہیں اور گذشتہ پانچ برسوں سے تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ احتجاجی ملازمین نے تنخواہ کو بڑھا کر 15 تا 18 ہزار ماہانہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ملازمین کی ہڑتال کے سبب ٹکٹنگ کاؤنٹرس پر طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ حیدرآباد میٹرو ریل کے عہدیداروں نے وضاحت کی ہے کہ کنٹراکٹ ایجنسی کے ذریعہ ٹکٹنگ اسٹاف کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور انہوں نے ٹرین خدمات کو متاثر کرنے اور مسافرین کو تکلیف دینے کے مقصد سے کام میں خلل پیدا کیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بعض مفادات حاصلہ میٹرو ٹرین کے بارے میں گمراہ کن خبریں پھیلارہے ہیں۔ ٹکٹنگ اسٹاف کا مطالبہ اور ان کا اقدام عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ انتظامیہ نے احتجاجیوں کے خلاف سخت گیر کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ ہڑتال کے باوجود ٹرین سرویس میں کوئی خلل نہیں پڑا اور کمپنی کے پاس مناسب اسٹاف موجود ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ملازمین کے مطالبات پر غور کرنے کیلئے تیار ہیں بشرطیکہ وہ ہڑتال سے گریز کریں۔ ملازمین کی ہڑتال کے سبب ایل بی نگر تا میاں پور میٹرو اسٹیشن پر عوام کو ٹکٹ کے حصول میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں کمی کے علاوہ بنیادی انفرااسٹرکچر بھی دستیاب نہیں ہے اور ملازمین کو کھانے کیلئے بھی وقت نہیں دیا جاتا۔ر