پکوان گیس کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ، عوام کا جینا محال
محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد۔ 20 مئی : شہر حیدرآباد کے عوام پہلے ہی ایل پی جی گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور قلت سے پریشان تھے اب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد مہنگائی کے ایک نئے بوجھ تلے دب گئے ہیں۔ اس ماہ مئی کے دوران گزشتہ جمعہ کی صبح سے نافذ ہونے والی نئی قیمتوں نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔ اس تازہ قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک کے دیگر بڑے میٹرو شہروں جیسے دہلی، ممبئی، کولکتہ، چینائی اور بنگلورو کے مقابلے حیدرآباد میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئیں۔ حیدرآباد میں فی لیٹر پٹرول پر 3.43 روپے اور ڈیزل پر 3.26 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ شہر کے عوام ابھی اسی اضافی بوجھ سے سنبھل ہی نہیں پائے تھے کہ منگل کو پھر ایک بار آئیل کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 90 پیسوں سے زائد کا اضافہ کردیا جس کے بعد حیدرآباد میں فی لیٹر پٹرول کی قیمت 111.88 روپے اور فی لیٹر ڈیزل کی قیمت کے ساتھ ساتھ لوگ ذاتی گاڑیوں (ٹووہیلرس اور کاروں) پر بے حد زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق شہر میں روزانہ اوسطاً 3,500 لیٹر پٹرول اور 6,600 لیٹر ڈیزل فروخت ہوتا ہے۔ ایک ہفتہ میں دو مرتبہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے روزانہ 3 کروڑ روپے سے زیادہ اور ماہانہ 100کروڑ روپے سے زیادہ مالی بوجھ عائد ہو رہا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اس اضافے کا براہ راست اور بالواسطہ اثر زندگی کے تمام شعبوں پر نظر آرہا ہے۔ کمرشیل گیس کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوٹلوں، ٹفن سنٹرس اور ہاسپٹلس میں کھانے کی اشیاء پہلے سے ہی 15 تا 20 فیصد مہنگی ہوچکی تھی، اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے براہ راست سفری اخراجات میں 12 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوگیا ہے۔ آٹو، ٹیکسی اور دیگر مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں اضافہ ہوگیا۔ آن لائن ڈیلوری سرویس Swiggy, Zomato اور Amazon جیسی بڑی کمپنیوں کی جانب سے بھی ہوم ڈیلیوری فیس بڑھادی گئی ہے جس کا اثر برہ راست صارفین پر پڑ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہیکہ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے صرف سفر ہی نہیں بلکہ روزمرہ کی بنیادی اشیاء جیسے دودھ، ترکاقی اور راشن کی قیمتیں بھی بالواسطہ طور پر بڑھ گئی ہیں کیونکہ حمل و نقل کے اخراجات میں بھی زبردست اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ اس تازہ ترین پیشرفت کے بعد شہر کے غریب اور متوسط طبقے کی ماہانہ گھریلو اخراجات میں 25 سے 30 فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ 2؍F