تاحال 2 ماہانہ اور 34 یومیہ پاسیس فروخت ، قیمتوں پر جلد نظر ثانی کا امکان
حیدرآباد ۔ 9 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : ریاستی حکومت کی جانب سے گاندھی جینتی کے موقع پر حیدرآباد کے شہریوں کے لیے بڑی امیدوں کے ساتھ شروع کی گئی میٹرو ۔ آر ٹی سی کامن پاس اسکیم کو مسافرین نے مکمل طور پر مسترد کردیا ہے ۔ ناکافی منصوبہ بندی پر مبنی اس پاس کی قیمتوں کی وجہ سے عوام نے اس سے دوری اختیار کرلی ہے ۔ جس کے بعد اب حکومت اور متعلقہ حکام پاس کی قیمتوں پر از سر نو نظر ثانی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔ حکام کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق گاندھی جینتی سے اب تک صرف 2 ماہانہ پاس اور 34 یومیہ پاسیس فروخت ہوئے ہیں ۔ جو اس اسکیم کی عدم مقبولیت کا منھ بولتا ثبوت ہے ۔ کامن پاس کے ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ اس کی بے تحاشہ قیمت بتائی جارہی ہے ۔ ماہانہ پاس کی جملہ قیمت 8500 روپئے مقرر کی گئی ہے ۔ اس 8500 روپئے کے پاس میں میٹرو ریل کا حصہ 7000 روپئے رکھا گیا ہے جب کہ TGSRTC کی بسوں ( AC اور Non-AC ) کا حصہ 1500 روپئے ہے ۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ ایک عام ملازم یا روزانہ سفر کرنے والا شخص اگر 30 دن تک باقاعدگی سے میٹرو ریل کا سفر کریں تو بھی اس کا ماہانہ خرچ 4500 روپئے سے زیادہ نہیں ہوتا ۔ اس میں اگر 1500ر وپئے آر ٹی سی پاس شامل بھی کرلیا جائے تو جملہ رقم 6000 روپئے ہوتی ہے ۔ لیکن حکومت نے اس پر مزید 2500 روپئے کا اضافی بوجھ ڈال کر اس کی قیمت 8500 روپئے کردی جو مکمل طور پر غیر منطقی ہے ۔ سوشیل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس پاس کے خلاف سخت ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ روزانہ سفر کرنے والے شہریوں نے حساب کتاب پیش کرتے ہوئے اسے عوامی رقم پر بوجھ قرار دیا ہے ۔ ایک مسافر مرتیونجے نے بتایا کہ وہ روزانہ میٹو گوڑا سے ہائی ٹیک سٹی تک میٹرو ریل میں سفر کرتے ہیں دونوں طرف کا یومیہ کرایہ 125 روپئے ہوتا ہے ۔ جو 25 دنوں کے لیے 3125 روپئے ہوتا ہے ۔ میں آخر کیوں 8500 روپئے خرچ کر کے کامن پاس خریدوں گا ۔ ایک اور مسافر سائی کرن نے بتایا کہ وہ میاں پور سے ایل بی نگر تک سفر کرتے ہیں ایک طرف کا کرایہ 138 روپئے ہے اگر میں پورے مہینے 31 دن بھی سفر کروں تو جملہ خرچ 4278 روپئے ہوتا ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ قیمتوں پر فوری نظر ثانی کریں ۔ عوامی مخالفت اور توقع کے مطابق کامن پاس فروخت نہ ہونے کے بعد اب حکام کا کہنا ہے کہ جلد ہی ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرتے ہوئے کامن پاس کی قیمتوں پر نظر ثانی کے تعلق سے قطعی فیصلہ کیا جائے گا ۔۔ 2/m/b