فارم 6 کی راست اندراج سے انکار، آن لائین داخل کرنے کا مشورہ، شہریوں میں الجھن
حیدرآباد۔2 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد کے حدود میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی مہم کے کام کا بوجھ نئے ووٹرس کے اندراج میں بڑی رکاوٹ بن گیا ہے ۔ الیکشن کمیشن اور ضلعی حکام کے واضح احکامات کے باوجود فارم 6 کو برائے راست قبول کرنے سے بی ایل اوز اور سپروائزرس صاف انکار کر رہے ہیں۔ بی ایل اوز کی اس لاپرواہی اور ایس آئی آر ڈیوٹی کا بہانہ بنانے کی وجہ سے ہزاروں نئے ووٹرس اپنے حق رائے دہی سے محروم ہونے کے خدشہ میں مبتلا ہے۔ بنجارہ ہلز روڈ نمبر 14 کے ایک ہی خاندان کے تین افراد نے تین ماہ قبل بی ایل او کو فارم 6 راست طور پر جمع کروایا تھا۔ تاہم کوئی کارروائی نہ ہونے پر انہیں دو دن قبل دوبارہ آن لائین اپلائی کرنا پڑا۔ اسی طرح لنگر ہاؤز کے باپو نگر کے متوطن راجو کو سپروائزر نے ایس آئی آر کی ڈیوٹی پر مصروف ہونے کا بہانہ بناتے ہوئے انہیں آن لائین فارم داخل کرنے کا مشورہ دیا۔ ضلع حیدرآباد میں جملہ 4062 بی ایل اوز تعینات ہیں، جن کے پاس ہزاروں فارم 6 غیر فعل اور زیر التواء پڑے ہیں۔ بی ایل اوز کا کہنا ہے کہ وہ ایس آئی آر کو ترجیح دے رہے ہیں اور انہیں نئے ووٹر رجسٹریشن کے حوالے سے اوپر سے کوئی واضح ہدایات نہیں ملی ہیں۔ الیکشن کمیشن ووٹر ہیلپ لائین ایپ اور این وی ایس وی پورٹل کے ذریعہ ڈیجیٹل درخواستیں قبول کی جارہی ہیں لیکن اسمارٹ فون نہ رکھنے والے ، غیر تعلیم یافتہ شہری خود سے دستاویزات ، تصاویر اسکیان کرنے اور اپ لوڈ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ جب یہ غریب اور ناخواندہ افراد بی ایل اوز کے پاس فارم جمع کرانے جاتے ہیں تو ان کی درخواستیں قبول نہیں کی جارہی ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انٹرنیٹ سنٹرس مفت میں ہونے والے ووٹر رجسٹریشن کے لئے غریب شہریوں سے 100 سے 200 روپئے تک بلا وجہ وصول کر کے ان کا معاشی استحصال کر رہے ہیں۔ 2/k