بی ایل اوز کی تبدیلی سے ووٹرس الجھن کا شکار ۔ فارمس کے حصول کیلئے ووٹرس کی مسلسل دوڑ دھوپ
کئی ووٹرس فارمس سے محروم ، جنہیں فارمس موصول ہوئے وہ خانہ پوری کے طریقہ سے لاعلم، رہنمائی کے فقدان سے مشکلات
حیدرآباد : /2 جولائی (سیاست نیوز) الیکشن کمیشن کی جانب سے شروع کردہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) مہم میں ایک سنگین اور چونکادینے والی انتظامی گڑبڑ سامنے آئی ہے ۔ جس نے ہزاروں موٹرس کو ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ اس مہم کی سب سے بڑی خامی یہ سامنے آئی کہ ایک ہی گھر کے افراد کے ووٹوں کو بے دردی سے الگ کردیا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر ایک ہی خاندان کے 6 ووٹ ہیں تو ان میں سے 4 ووٹ ایک جگہ رکھے گئے ہیں جبکہ گھر کے باقی 2 ارکان کے ووٹوں کو دوسرے ڈیویژنس اور مختلف مقامات یا کسی اور کے مکانات کی فہرستوں میں ڈال دیا گیا ہے ۔ اس لاپرواہی کی وجہ سے ایک ہی گھر کے افراد کے بوتھ لیول آفیسرس الگ الگ ہوچکے ہیں۔ جس سے ووٹرس شدید الجھن اور غصے کا شکار ہیں ۔ بالخصوص خواتین زیادہ پریشان ہیں ۔ انہیں ایک مقام سے دوسرے مقام کو دوڑ دھوپ کرنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے ۔ حیدرآباد کے کئی علاقوں میں آج تک بھی 50 فیصد انمرویشن فارمس تقسیم نہیں ہوئے ہیں اس لاپرواہی کیلئے بی ایل اوز ذمہ دار ہیں وہ خود گھروں کو پہنچکر فارمس تقسیم کرنے کے بجائے یہ کام سیاسی جماعتوں کے حوالے کردیئے گئے ہیں اور جنہیں فارمس موصول ہوئے وہ اس کی خانہ پوری کے معاملے میں لاعلمی سے الجھن کا شکار ہیں۔ انتظامیہ کا دعویٰ تھا کہ BLOs گھر گھر جاکر عوام کو فارمس کی خانہ پری میں رہنمائی کریں گے ۔ لیکن فیلڈ پر صورتحال بالکل برعکس ہے ۔ جن ووٹرس کو کسی طرح فارم مل بھی گئے ہیں انہیں یہ نہیں بتایا جارہا ہے کہ اس پیچیدہ فارم کی خانہ پوری (Filling) کیسے کرنی ہے ۔ صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ جو تعلیمیافتہ لوگ ہیں وہ بھی فارم کے کالم دیکھ کر چکراگئے ہیں تو غیر تعلیمیافتہ طبقے کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ دوسری طرف چیف الیکٹوریل آفیسر کے دفتر نے مانا ہے کہ بی ایل اوز کی بڑی تعداد فارم کی خانہ پری کے طریقہ کار سے ناواقف ہے ۔ جس پر انہوں نے اضلاع کلکٹرس کو عملے کی دوبارہ تربیت کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ ضلع حیدرآباد کے 15 اسمبلی حلقوں میں ایک طرف عام شہری اپنے گھروں پر فارم کا انتظار کررہے ہیں ۔ وہی میڈیا اور سوشل میڈیا میں کئی ایسی ویڈیوز وائرل ہورہی ہیں جن میں (BLOs) ووٹرس کے گھر جاکر فارمس تقسیم کرنے کے بجائے فارمس کو سیاسی جماعتوں کے قائدین کے حوالے کردیئے ۔ بعض مقامات پر ایک گھر میں بیٹھکر ووٹرس کو طلب کرتے ہوئے فارمس تقسیم کررہے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کی اس کھلی مداخلت نے پوری مہم کی شفافیت کو داغدار بنادیا ہے ۔ شہر حیدرآباد میں فارمس تقسیم کرنے کا عمل سست روی کا شکار ہیں ۔ اس مہم کے دوران ووٹرس میں پائی جانے والی الجھن کو دور کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ دار ہے ۔ کئی ایسے ووٹرس ہیں جنہوں نے ہر انتخابات میں باقاعدہ طور پر حق رائے دہی سے استفادہ کیا ہے ۔ جن کے پاس ووٹر شناختی کارڈ بھی موجود ہیں مگر ان کے فارمس بھی دستیاب نہیں ہے ۔ اس معاملے میں اب بی ایل اوز سے وضاحت طلب کی جارہی ہے تو وہ اپنی لاعلمی کا اظہار کررہے ہیں ساتھ ہی نئے ووٹرس کے اندراج کیلئے فارم 6 بھی تقسیم نہیں کئے جارہے ہیں ۔ پتہ کی تبدیلی اور ایک گھر کے ووٹر دوسرے گھر میں منتقل ہوگئے ہیں تو اس کو درست کرنے کا طریقہ کار کیا ہے ۔ اس کی بھی وضاحت کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے تاکہ پریشان اور الجھن کا شکار ووٹرس کو راحت حاصل ہوسکے ۔ 2/y