حیدرآباد میں یکم ؍ نومبر سے ’’ڈائل اے گرین ٹینکر‘‘ اسکیم کا آغاز

   

تعمیری سرگرمیوں اور پارکس کیلئے پینے کا پانی استعمال کرنے پر روک، واٹر بورڈ کے ایم ڈی کا اعلان
حیدرآباد ۔ 17 اکٹوبر (سیاست نیوز) حیدرآباد میٹرو پولٹین واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ نے حیدرآباد میں پینے کے پانی کے بے جا استعمال کو روکنے اور زیرزمین پانی کو محفوظ بنانے کیلئے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ بورڈ کی جانب سے یکم ؍ نومبر سے ’’ڈائل اے گرین ٹینکر‘‘ (Dail-a-Green Tanker) سسٹم متعارف کرایا جارہا ہے۔ واٹر بورڈ کے منیجنگ ڈائرکٹر اشوک ریڈی نے تعمیراتی شعبہ سے وابستہ اداروں (CREDAI) کریڈائی۔ ناریڈکو (NAREDCO) اور ٹی بی ایف (TBF) کے نمائندوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد کیا جس میں ٹریٹیڈ سوریج واٹر کے استعمال کے روڈ میاپ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ واٹر بورڈ کے ایم ڈی نے بتایا کہ شہر میں پینے کے پانی کو تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے بجائے مذکورہ پانی کو متبادل کے طور پر فراہم کیا جائے گا۔ ڈائل اے گرین ٹینکر کے ذریعہ تعمیراتی شعبہ، صنعتوں، پارکس اور روڈ سائیڈ گرینری کیلئے صاف کیا گیا پانی فراہم کیا جائے گا۔ پہلے مرحلہ میں روزانہ 100 ملین لیٹر ری سائیکل شدہ پانی صارفین کیلئے دستیاب کرایا جارہا ہے۔ ضرورتمند افراد اور اداروں کو خاص ٹینکرس کے ذریعہ یہ صاف پانی ان کی دہلیز تک پہنچایا جائے گا۔ منیجنگ ڈائرکٹر واٹر بورڈ نے انکشاف کیا کہ صرف سرکاری واٹر پلانٹس ہی نہیں بلکہ شہر کے بڑے اپارٹمنٹس اور گیٹیڈ کمیونٹیز کے اندر قائم پرائیویٹ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (STPs) کے فاضل پانی کا بھی استعمال کیا جائے گا۔ اب تک شہر میں 51 خانگی ٹریٹمنٹ پلانٹس کو رجسٹر کیا جاچکا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اب پرائیویٹ ایس ٹی پیز سے روزانہ تقریباً 1.5 ایم ایل ڈی اضافی ٹریٹیڈ واٹر حاصل ہورہا ہے۔ واٹر بورڈ حکام کے مطابق جہاں بھی ممکن ہو ان ٹریٹمنٹ پلانٹس سے قریبی پارکس، ہریالی والے علاقے اور تعمیراتی مقامات تک براہ راست پائپ لائنس بچھانے کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے تاکہ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات اور وقت کی بچت ہوسکے۔2/a/b