سڑک توسیع کے بعد برقی اور ٹیلی فون کھمبوں کو چھوڑ دینے سے تعمیر ادھوری
حیدرآباد۔4۔ڈسمبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے تمام علاقوں کی مساوی ترقی کے لئے فوری طور پر اقدامات اور منصوبہ بندی کی جانی ناگزیر ہے کیونکہ شہر کے بیشتر علاقوںمیں سڑک کی توسیع کرتے ہوئے اسے یوں ہی چھوڑدیا گیا ہے جبکہ برقی کھمبوں کے علاوہ ٹیلی فون کے کھمبوں کو ہٹانے اور سڑکوں کی تعمیر نہ کئے جانے کے سبب سڑک کی توسیع کے کام مکمل نہیں ہوپائے ہیں۔سڑکوں کی توسیع کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے باوجود مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے حصول جائیداد کے رقومات کی عدم ادائیگی مالکین جائیداد کے لئے مسئلہ بنی ہوئی ہے اور وہ اپنی جائیدادوں کی حوالگی پر بھی ان کو ادائیگی نہ کئے جانے کے سبب پریشان ہیں ۔ پرانے شہر کے علاقوں دودھ باؤلی‘ چندولعل بارہ دری‘ ہمت پورہ کے علاوہ کئی علاقو ںمیں جہاں سڑکوں کی توسیع کے اقدامات کئے جاچکے ہیں ان علاقوں میں رقومات کی ادائیگی نہ کئے جانیکے سبب بعض جائیدادیں راستہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں اگر بلدی عہدیداروں کی جانب سے رقومات کی اجرائی کے سلسلہ میں کاروائی جا رہی ہے تو ایسی صورت میں سیاسی کارکن عہدیداروں پر دباؤ ڈالتے ہوئے انہیں روک رہے ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ سڑکوں کی توسیع کے لئے حاصل کی گئی جائیدادوں پر تعمیرات کے سلسلہ میں بھی عہدیدارو ںاور سیاسی کارکنوں اور قائدین کی ملی بھگت کے سبب عوامی مفاد کے لئے اپنی جائیدادوں کو حوالہ کرنے والوں کے لئے مسائل کا سبب بنی ہوئی ہے کیونکہ انہیں تعمیرات کے لئے لاکھوں روپئے ادا کرنے پڑ رہے ہیں جبکہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے جو رقومات انہیں وصول ہونی ہیں وہ اب تک نہیں ہوئی ہیں ۔ بلدی عہدیدارو ںنے بتایا کہ سڑکوں کی توسیع کے لئے جائیدادیں حوالہ کرنے والوں کی جانب سے کی جانے والی شکایت درست ہے لیکن 60 فیصد سے زیادہ لوگوں کو رقومات کی اجرائی عمل میں لائی جاچکی ہے اور جن لوگوں کو رقومات کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے ان کے ساتھ اب بھی مذاکرات کا عمل جاری ہے۔ جی ایچ ایم سی کے ذرائع کے مطابق بلدیہ کے پاس ناکافی فنڈس کے سبب ان سڑکوں پر توسیعی کامو ںکو مکمل نہیں کیا جاسکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جن جائیدادوں کو حاصل کیا گیا ہے ان جائیدادوں کے مالکین کو رقومات کی ادائیگی عمل میں نہیں لائی گئی۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیدارو ںنے رقومات کی اجرائی اور تعمیرات کے سلسلہ میں سیاسی مداخلت کے متعلق شکایات پر کوئی جواب دینے کے بجائے کہا کہ جن لوگوں کی جائیدادیں متاثر ہوئی ہیں انہیں قانون حق حصول اراضیات کے مطابق معاوضہ اور تعمیری مراعات کے سلسلہ میں بلدیہ کی جانب سے ممکنہ اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اس میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہے۔م