7 قابضین نے ہائیکورٹ کو گمراہ کیا، حیڈرا کی برخاستگی کا مطالبہ مسترد، نئی دہلی میں چیف منسٹر کی میڈیا سے بات چیت
7 امتحانات کے آن لائن انعقاد کی تائید، فیس ری ایمبرسمنٹ بے قاعدگیوں کی تحقیقات، اے پی میں 10 ہزار کروڑ کے بقایہ جات کا حوالہ
حیدرآباد 28 جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہاکہ حیڈرا کمشنر کے بارے میں تلنگانہ ہائیکورٹ کے فیصلہ کا جائزہ لیا جائے گا اور حکومت عدلیہ سے رجوع ہوگی۔ نئی دہلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے الزام عائد کیاکہ جھیل، تالابوں، سرکاری اراضیات اور پارکس پر غیر مجاز قابضین حیڈرا کی برخاستگی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ گمراہ کن دستاویزات کے ذریعہ عدالت کو گمراہ کرتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی کی کوشش کی گئی۔ چیف منسٹر نے کہاکہ اگر توہین عدالت کے مقدمات کی صورت میں عہدیدار کو تبدیل کرنا ضروری ہوتو سابق میں سومیش کمار کے خلاف توہین عدالت کے 400 مقدمات تھے، اُس وقت کسی نے تبدیل کرنے کی بات نہیں کی۔ چیف منسٹر نے واضح کیاکہ عہدیداروں کی پوسٹنگ حکومت کا مکمل اختیار ہے اور کس عہدیدار کو کیا پوسٹنگ دی جائے اس کا فیصلہ حکومت کرتی ہے، اِس اختیار کو کوئی چھین نہیں سکتا۔ اُنھوں نے کہاکہ گمراہ کن مقدمات کا حکومت عدالت میں سامنا کرے گی اور عدلیہ پر مکمل بھروسہ ہے۔ ریونت ریڈی نے حیڈرا کی کارکردگی کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ حیڈرا کا قیام حکومت کا ایک غیرمعمولی اصلاحی قدم ہے۔ ہم نے حیڈرا کے ذریعہ جھیلوں، نالوں اور ذخائر آب کا تحفظ کیا ہے۔ حکومت کو حیڈرا سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اِسے مزید مستحکم کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ حیڈرا ایک بہترین ادارہ ہے جسے ملک بھر سے ستائش حاصل ہوئی ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ بی آر ایس کے ایک لیڈر نے بتکماں کنٹہ کی 10 ایکر اراضی پر قبضہ کیا اور کے سی آر کے دورہ کے موقع پر وہ پھولوں کی بارش کررہے ہیں۔ پھولوں کی بارش کرنے پر بی آر ایس قائدین کو غیر مجاز قبضہ دکھائی نہیں دیا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ بتکماں کنٹہ ذخیرہ آب کی اراضی پر قبضہ کو ختم کرتے ہوئے اراضی کا تحفظ کیا گیا جس کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی گئی۔ این کنونشن کو منہدم کیا گیا، کیا یہ غریبوں کا تھا؟ گنڈی پیٹ کی اراضی پر غیر مجاز تعمیرات کو منہدم کیا گیا، کیا یہ غریبوں کے تھے؟ غیر مجاز قابضین اپنے قبضوں کو برقرار رکھنے کے لئے بھاری رقومات خرچ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر گمراہ کن مہم چلارہے ہیں۔ ہائیکورٹ کے فیصلہ کے ساتھ ہی حیڈرا کی برخاستگی کے مطالبات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ چور، قبضہ دار اور بی آر ایس قائدین یہ مطالبہ کررہے ہیں۔ چیف منسٹر نے واضح کیاکہ حیڈرا کی کارکردگی اطمینان بخش ہے اور حکومت اُسے مزید مستحکم کرے گی۔ چیف منسٹر نے آن لائن امتحانات کے انعقاد کی تائید کی اور کہاکہ سرکاری ملازمتوں اور مسابقتی امتحانات کے آف لائن امتحانات کے انعقاد سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اور آن لائن امتحانات کے انعقاد محفوظ رہیں گے۔ ملک میں امتحانی پرچہ جات کے افشاء کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ دیہی علاقوں سے متعلق بعض امتحانات ریاستی حکومت کے محکمہ تعلیم کے تحت ہیں لیکن مرکزی حکومت اِسے اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کررہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ریاستوں کے اختیارات کو سلب کرنے کے بجائے بہتر رہے گا کہ مرکزی حکومت مسابقتی امتحانات یونیورسٹیز اور دیگر اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنائے۔ اُنھوں نے کہاکہ پارلیمنٹ میں وسیع تر مباحث کے ذریعہ طلبہ کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ راہول گاندھی طلبہ کے حق میں جدوجہد کررہے ہیں اور تمام اپوزیشن پارٹیوں کو بھی جدوجہد میں شامل ہونا چاہئے۔ ریاست میں فیس ری ایمبرسمنٹ پر گمراہ کن مہم کا الزام عائد کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہاکہ سابق حکومت کے دور میں فیس ری ایمبرسمنٹ کے نام پر بڑے پیمانہ پر لوٹ مچائی گئی۔ حکومت نے اِن بے قاعدگیوں کی تفصیلی جانچ کے احکامات جاری کئے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اپوزیشن پارٹیاں فیس ری ایمبرسمنٹ کے مسئلہ پر حکومت پر الزام تراشی اور تاخیر کے لئے ذمہ دار قرار دے رہی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ میں آندھراپردیش کے رکن راجیہ سبھا فیس ری ایمبرسمنٹ کے بارے میں تبصرہ کررہے ہیں لیکن آندھراپردیش میں اُن کی حلیف پارٹی کی حکومت نے 10 ہزار کروڑ کے فیس ری ایمبرسمنٹ بقایہ جات جاری نہیں کئے لیکن اِس معاملہ میں خاموش ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ آندھراپردیش میں صد فیصد فیس ری ایمبرسمنٹ کی ادائیگی کے بعد ہی بی جے پی صدر رامچندر راؤ، رکن راجیہ سبھا آر کرشنیا اور مرکزی وزیر کشن ریڈی کو فیس ری ایمبرسمنٹ کے بارے میں اظہار خیال کرنا چاہئے۔V/k/i/1