خدا کی شان میں گستاخی بی جے پی آئی ٹی سیل رکن کے خلاف مقدمہ

   

دیوبند۔20۔نومبر(سیاست ڈاٹ کام) ایک ایسے وقت جب ملک میں حساس مسائل پر فرقہ وارانہ اظہار رائے کے خلاف ملک کی خفیہ ایجنسیاں سخت کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔مگر حکمراں طبقہ سے تعلق رکھنے والے خاطیوں کے خلاف کارروائی کرنے میں پس و پیش کر رہی ہیں۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے سپریم کورٹ میں بابری مسجد فیصلہ پر نظر ثانی کی عرض داشت دائر کرنے کے فیصلہ کے بعد بی جے پی کا آئی ٹی سیل سوشل میڈیا پر متحرک ہوگیا، اس کے کارکنان مغلظات بکنے لگے، خود کو نوجوان لیڈر اور بی جے پی آئی ٹی سیل بنارس کا متحرک رکن بتانے والے پروین دکشت نے 17 نومبر کو دو ٹویٹ کئے، جس میں اس نے اللہ رب العزت کی شان میں گستاخانہ کلمات بکے اور کہا کہ اب ہم بابری مسجد کی طرح سبھی مسجدوں کو مسمار کریں گے، اس نے ظہیر الدین محمد بابر اور اسد الدین اویسی کو بھی انتہائی فحش گالیاں دیں۔اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرنے والے تنظیم ابنائے مدارس کے ذمہ دار مہدی حسن عینی کو جب اس ٹویٹ کی اطلاع ملی تو انہوں نے فوراً بنارس پولیس سے رابطہ کیا اور ان دونوں ٹویٹ کے خلاف شکایت کی۔مولانا مہدی حسن عینی نے بتایا کہ شکایت کے 12 گھنٹے کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی، تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ پروین دکشت بی جے پی کا بہت فعال کارکن ہے، اس کے والد وزیر اعظم نریندر مودی اور تنن گڈکری کے قریبی لوگوں میں سے ہیں، اس لئے پولیس کارروائی سے بچ رہی ہے۔اس کے بعد مہدی حسن عینی نے سائبر کرائم ہیڈ آفس اور ڈی جی پی آفس اترپردیش سے براہ راست رابطہ کیا، نتیجتاً بنارس پولیس نے مقدمہ درج کیا۔