خلیجی ممالک میں روزگار کے نام پر حیدرآبادی خواتین کے ساتھ دھوکہ دہی

   


ہندوستانی سفارتخانوں میں بے شمار شکایات، ایجنٹس کے بارے میں چوکسی کی ضرورت

حیدرآباد۔/21 اگسٹ، ( سیاست نیوز) ملک میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے اہم مرکز کے طور پر حیدرآباد کی شناخت ہے اور اس شعبہ میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ ایک طرف آئی ٹی شعبہ کی ترقی نے دنیا بھر میں ہندوستان کا نام روشن کیا تو دوسری طرف غربت اور پسماندگی کے نتیجہ میں روزگار کے نام پر دھوکہ دہی کے معاملات بھی عروج پر ہیں۔ روزانہ معاشی طور پر پسماندہ کئی خواتین کو دھوکہ باز ایجنٹوں کے ذریعہ روزگار اور بہتر تنخواہوں کا وعدہ کرتے ہوئے خلیجی ممالک روانہ کیا جارہا ہے۔ دبئی، مسقط، ریاض اور دیگر ممالک میں واقع ہندوستانی سفارتی مشن کو حیدرآبادی خواتین کی جانب سے تحفظ اور وطن واپسی کی بے شمار درخواستیں موصول ہورہی ہیں۔ ہندوستانی سفارت خانہ میں حیدرآباد کی کئی بے سہارا خواتین کو پناہ دی گئی ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دھوکہ دہی سے بچنے کیلئے بارہا چوکس کئے جانے کے باوجود حیدرآبادی خواتین مقامی ایجنٹس کے جال میں پھنس رہی ہیں اور اپنے خاندانوں کے سنہری مستقبل کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ خلیجی ممالک پہنچنے کے بعد دھوکہ دہی کا شکار ہورہے ہیں۔ کئی خواتین خلیجی ممالک سے واپسی کیلئے سفارتخانوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ ایک تازہ ترین معاملہ آغا پورہ کی ایک خاتون کا منظر عام پر آیا جس میں معاشی مسائل سے نمٹنے کیلئے بیرونی ملازمت سے اتفاق کیا گیا۔ یہ خاتون ایم اے انگلش لٹریچر میں ٹاپ کرچکی ہے۔ شادی کے چھ ماہ بعد شوہر کی طبیعت بگڑجانے سے خاندان معاشی مسائل کا شکار ہوگیا اور خاتون نے خلیجی ممالک میں اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد میں جو وعدے کئے گئے تھے ان کی تکمیل نہیں ہوئی اور وہ کسی طرح حیدرآبادی افراد سے رجوع ہوئی۔ خاتون کو ہندوستانی خواتین کے شیلٹر ہاوز میں منتقل کیا گیا ہے۔ مشیرآباد کی ایک خاتون کا بھی اسی طرح کا معاملہ منظر عام پر آیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ خلیجی ممالک میں روزگار کے لالچ سے بچنے کیلئے تحقیق کے بعد پیش رفت کی جائے۔ ر