خواتین کو کام سے روکنا افغان معیشت کی تباہی کا باعث : رپورٹ

   

بروسلز : ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغانستان کی بحران کی وجہ سے پہلے سے ابتری کا شکار معیشت طالبان کی طرف سے خواتین کی ملازمتوں پرپابندی اور ان کے حقوق کے خلاف مکمل جابرانہ اقدامات اختیار کرنے کی وجہ سے ملکی معیشت کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے۔گذشتہ جمعرات کو انٹرنیشنل کرائسز گروپ جو ایک آزاد تنظیم ہے اور تنازعات کے حل اور پالیسی سازی کے لیے کام کرتی نے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے حقوق پر طالبان کی پابندیاں افغانستان میں بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔رپورٹ میں گروپ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ افغانستان میں معاشی بحران کی شدت کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔یہ رپورٹ موجودہ اور سابق افغان حکام، اساتذہ، طلباء، امدادی کارکنوں، ترقیاتی شعبے کے حکام، سفارت کاروں، کاروباری رہ نماؤں اور دیگر شہریوں کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے سینیر مشیر گرایم اسمتھ نے کہا کہ ’ عطیہ دہندگان افغانستان سے منہ موڑ رہے ہیں اور طالبان کی طرف سے خواتین کی بنیادی آزادیوں پر پابندیوں سے ناراض ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خواتین کی بنیادی آزادیوں پر طالبان کی طرف سے عائد کردہ سخت پابندیوں کی وجہ سے ملک کے لیے عطیہ دہندگان کی امداد کی سطح میں کمی واقع ہوئی۔ سال 2020 غیر ملکی امداد کل آمدنی کا چالیس فی صد تھا۔محققین نے اس بات کی تصدیق کی کہ جب سے طالبان حکومت نے خواتین کے یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے اور غیر سرکاری تنظیموں کے دفاتر سمیت دفاتر میں کام کرنے پر پابندی کا اعلان کیا ہے، اس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ بیرونی فنڈنگ کے حجم میں کمی واقع ہو جائے گی۔ رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ مغربی حکومتوں کی طرف سے انسانی امداد کے لیے جمع کیے جانے والے فنڈز کی مالیت 4.6 ارب ڈالر سے بہت کم ہوگی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے حقوق پر عائد جامع پابندیوں کے اثرات معیشت کے اہم شعبوں جیسے زراعت اور صحت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ خواتین کی بے روزگاری کی سطح میں اضافے سے افغان خاندانوں کے بری طرح متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔آج افغانستان میں غربت کی بلند سطح ریکارڈ کی گئی ہے کیونکہ ملک کی 47 فیصد آبادی انتہائی غربت کی حالت میں زندگی گزار رہی ہے۔