خواتین کیخلاف جرائم کی روک تھام کیلئے شی ٹیمس کی نمایاں کارکردگی

   

تعلیمی اداروں میں شعور بیداری اور سیفٹی کلبس کا قیام،عوامی مقامات پر چھیڑ چھاڑ کے واقعات پر کارروائیاں

حیدرآباد۔/22 جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں خواتین کے تحفظ اور سلامتی کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی رہنمائی میں وزارت داخلہ نے کئی اقدامات کئے ہیں۔ خواتین کے تحفظ کیلئے شی ٹیمس کا قیام عمل میں لانے والی تلنگانہ ملک کی پہلی ریاست ہے۔ خواتین کے تحفظ کے اقدامات پر حکومت کی جانب سے آج تفصیلی نوٹ جاری کیا گیا جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد حکومت نے خواتین کے تحفظ کو اولین ترجیح دی ہے۔ ملک میں پہلی مرتبہ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل رتبہ کی سینئر پولیس عہدیدار کی قیادت میں ویمنس پروٹیکشن سیل قائم کیا گیا۔ ویمنس پروٹیکشن سیل مختلف انداز میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہے جس کے تحت شی ٹیمس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ خواتین کے خلاف مظالم اور دیگر واقعات کی روک تھام کیلئے بھروسہ کے نام سے سنٹر قائم کیا گیا جہاں خواتین پر گھریلو مظالم کے واقعات کی یکسوئی کی جاتی ہے۔ سائبر کرائم شعبہ کے ذریعہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کے خلاف جرائم پر کارروائی کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ شی ٹیم کے تحت گذشتہ سال 2022 میں کئی اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ عوامی مقامات پر چھیڑ چھاڑ اور دیگر جرائم کے علاوہ سوشیل میڈیا پر ہراسانی کو روکنے کیلئے شی ٹیمس کام کررہی ہیں۔ گذشتہ سال شی ٹیمس کو 6157 شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 521 کیسس میں ایف آئی آر درج کیا گیا۔ 1206 معمولی کیسس درج کئے گئے۔ 1842 افراد کی کونسلنگ کی گئی۔ جن افراد کی کونسلنگ کی گئی ان میں 1751 بالغ ہیں جبکہ 90 نابالغ ہیں۔ اسکول جانے والی طالبات کو ہراسانی کے معاملہ میں سائبر جرائم سے باشعور کرنے کیلئے تعلیمی اداروں میں رضاکارانہ تنظیموں کی مدد سے شعور بیداری پروگرامس منعقد کئے گئے۔ اس سلسلہ میں 11 اگسٹ 2022 کو حیدرآباد کے علاوہ تمام اضلاع کے پولیس ہیڈکوارٹرس پر سائبر کرائم پر شی ٹیمس کے ذریعہ مختلف پروگرامس منعقد کئے گئے۔ ریاست بھر میں 2381 سرکاری اور خانگی تعلیمی اداروں کی نشاندہی کی گئی جن میں سائبر کرائم کے بارے میں شعور بیداری مہم چلائی جارہی ہے۔33 کالجس میں طالبات کے سیفٹی کلب قائم کئے گئے۔ ہر تعلیمی ادارہ میں سیفٹی کلبس کے قیام کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ گذشتہ سال بھروسہ سنٹر میں جن مقدمات کی یکسوئی کی گئی ان میں 23 افراد کی خاطیوں کی حیثیت سے نشاندہی کی گئی۔ ر