خواجہ معین الدین کو انچارج سی ای او وقف بورڈ مقرر کرنے کا امکان کم

   

ڈپٹی سکریٹری کے عہدہ کے مماثل نہیں ، وقف بورڈ اجلاس کے بعد حالات میں تبدیلی
حیدرآباد۔20۔اکٹوبر(سیاست نیوز) وقف بورڈ نے چیف ایکزیکیٹیو آفیسر تلنگانہ کے عہدہ پر خواجہ معین الدین ڈپٹی سپرٹنڈنٹ آف پولیس کے نام کو قطعیت دیتے ہوئے انہیں انچارج سی ای او بنانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن ریاستی حکومت کو روانہ کی جانے والی سفارش کے بعد حالات تیزی سے تبدیل ہونے لگے ہیں اور کہا جار ہاہے کہ حکومت کی جانب سے ان کے نام کو منظوری نہیں دی جائے گی کیونکہ وہ ڈپٹی سیکریٹری کے عہدہ کے مماثل عہدہ نہیں رکھتے ۔ وقف بورڈ کی منظوری کے باوجود اگر ان کے تقرر کو حکومت منظوری نہیں دیتی ہے تو ایسی صورت میں 1996 بیاچ سے تعلق رکھنے والے پولیس عہدیدار کو وقف بورڈ کی سی ای او نہیں بنایا جاسکے گا۔ قانونی رسہ کشی اور سی ای او کے عہدہ کے سلسلہ میں بورڈ کی قرار داد کی منظوری کے بعد ویجلنس آفیسر وقف بورڈ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے عہدیدارچیف ایکزیکیٹیو کی زائد ذمہ داری سنبھالیں گے ۔ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جناب شاہنوا ز قاسم آئی پی ایس کا تعلق محکمہ پولیس سے ہونے اور اب ڈی ایس پی جن کے نام کی سفارش سی ای او کے عہدہ کے لئے کی گئی ہے ان کا تعلق بھی محکمہ پولیس سے ہونے کے سبب مسائل پیدا ہونے لگے ہیںاور کہا جار ہاہے کہ جناب خواجہ معین الدین بھی ڈائریکٹر تلنگانہ محکمہ اقلیتی بہبود کو سی ای او وقف بورڈ کے عہدہ سے ہٹائے جانے کے بعد اس عہدہ کو قبول کرنے میں پس و پیش کر رہے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ سرکاری خدمات کے دوران انہیں کبھی نہ کبھی واپس محکمہ پولیس واپس جانا ہوگا اسی لئے وہ اپنی خدمات کے متعلق فکرمند ہیں۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے کیے گئے فیصلہ کو حکومت کی منظوری کی صورت میں عدالتی رسہ کشی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس لیے جناب خواجہ معین الدین کو انچارج کی حیثیت سے تقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ حکومت جلد مستقل سی ای او کا تقرر عمل میں لائے گی ۔م