آنکھیںہمارے چہرے پر گویادو ایسی روشن کھڑکیوں کی مانند ہوتی ہیں، جن کی روشنی ہمارے پورے وجود کو منور کرتی ہے۔ اس کے علاوہ خوبصورت آنکھیں آپ کی شخصیت کی دلکشی میں اضافے کا باعث ہوتی ہیں اور خواتین کیلئے توآنکھوں کی خوبصورتی بڑی ہی اہمیت کی حامل ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ آنکھوں کے بنائو سنگھار کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔لیکن کیا آپ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ابرو یابھنوؤں کو اگر آنکھوں کا فریم کہا جائے تو یہ بے جا نہ ہوگا۔ لہٰذا یہ فریم جس قدرخوبصورت اور دلکش ہوگا ، ان میں سجی آنکھوںکی تصویر بھی اسی قدر دلکش اور خوبصورت دکھائی دے گی۔خوبصورتی اور نفاست سے بنی بھنوؤں کے بغیر دلکش آنکھوں کا تصور نا ممکن ہے۔ اکثر دیکھنے میں آتاہے کہ بیشتر خواتین اپنی بھنوؤں کی جانب زیادہ تر لاپرواہی برتتی ہیں اور انہیں سیٹ رکھنے پر توجہ نہیں دیتیں،لیکن اس طرح سے آپ کی دلکشی ماند پڑجاتی ہے اور آنکھوں کا اچھے سے اچھا کیاگیا میک اپ بھی آپ کے سنگھار میں پر فیکشن کا تا ثرپیدا کرنے میں نا کام رہتا ہے۔تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ آپ اپنے چہرے کی ساخت اور بناوٹ کے لحاظ سے اپنی بھنوئیںبنائیں اور پھر وقتاً فوقتاً انہیں ترتیب دیتی رہیں۔کیونکہ ایک بار بھنوئیںبنانے کے بعد اگر انہیں لاپرواہی کے ساتھ بڑھنے دیا جائے تو بھنوئوں کے اضافی بال کافی بدنماسے لگنے لگتے ہیں اور آپ کی بھنوئیں بجائے اچھی نظر آنے کے،بری نظر آنے لگتی ہیں۔ تاہم یہ یاد رکھیںکہ بھنوئیں آپ کی خوبصورتی کا استعارہ اور آئینہ دار ہوتی ہے، اس لئے ان کی جانب عدم توجہی نہ برتی جائے اور انہیں بنانے کیلئے وہی طریقہ اپنائیں جو آپ کیلئے آسان اور کافی سہل ہو اور جس میں آپ بہتر سہولت محسوس کرسکیں۔بھنوئیں بنانے کیلئے کئی طریقے اپنائے جاتے ہیں، جن میں بھنوئوں کے بالوں کو چمٹی(ٹوئیزر) کے ذریعے اکھیڑنے سے لے کر تھریڈنگ اور ویکسنگ شامل ہے ۔اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اپنی بھنوئیں بنانے کیلئے کونساطریقہ استعمال کرتی ہیں۔اگر آپ ٹوئیزر کی مدد سے اپنی بھنوئیں بنانا پسند کرتی ہیں تو اس کیلئے ایسی جگہ بیٹھیں جہاں روشنی کا مناسب انتظام ہو، اس کے بعد ایک بڑا آئینہ منتخب کریں اور کافی احتیاط کے ساتھ بھنوئوںکے اضافی بال ایک ایک کرکے اکھیڑیں ۔ بھنوئوں کے بالوں کا رخ جس سمت میں ہو، انہیں اسی سمت میں اکھاڑنا چاہئیے، اس طرح کم سے کم تکلیف ہوتی ہے ۔وقت کے ساتھ چونکہ بھنوئیں بنانے کے اسٹائل بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں، اس لئے اگر چہ آپ کوئی نیا اور منفرد انداز اپنانا چاہتی ہیں تو اس کیلئے سب سے پہلے اپنے چہرے کی ساخت اور بناوٹ پر غور کریںکہ آیا وہ نیا اسٹائل آ پ کے چہرے کی مناسبت سے اچھا لگے گا بھی یا نہیں۔ زیادہ تر خواتین عموماً کمان کے انداز میں اپنی بھنوئیں بنانا پسند کرتی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ یہ اسٹائل ہر ایک پر اچھا لگتا ہو ۔ لہٰذاوہی اندازاپنائیں جو آپ کے چہر ے پر سوٹ کرے۔ اس کیلئے آپ اپنی بیوٹیشن یا پھر اپنی کسی دوست سے بھی رائے مشورہ لے سکتی ہیں۔ آپ بھنوئوں کا جو انداز بنانا چاہتی ہیں، ہو سکتا ہے کہ اس کیلئے کافی وقت درکار ہو۔ لہٰذا ایک نشست میں بھنوئیں سیٹ کرنے کے بجائے ٹھہر ٹھہر کر دو ، تین نشستوں میںآپ یہ کا م انجام دے سکتی ہیں۔ اس طرح سے زیادہ اچھا نتیجہ حاصل ہوگا۔بھنوئوں کو بنانے کیلئے تھریڈنگ اور ویکسنگ کا طریقہ بھی اختیار کیا جاتا ہے، تاہم اس کیلئے کسی کی مدد درکار ہوتی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ گھر پر یہ کام انجام دینے کی کوشش میں آپ سے کوئی غلطی سر زد ہوجائے اور آپ بھنوئوں کی شیپ خراب کربیٹھیں، اس لئے بہتر یہی ہے کہ ویکسنگ یا تھریڈنگ کیلئے کسی اچھے بیوٹی پارلر کا رخ کیا جائے۔آج کل بھنوئوں کو شیپ دینے کیلئے الیکٹرولیسس کا سہارا بھی لیا جاتا ہے۔ اس طریقے کی بدولت بال دوبارہ نہیں نکلتے، لیکن اس میں قباحت یہ ہے کہ آپ ایک بار اپنی بھنوئوںکا جو اندازبنائیں ، ہمیشہ وہی رہے گا۔ اس کے علاوہ یہ طریقہ خاصا مہنگا بھی ہوتاہے لہٰذا ہر خاتون اسے اختیار کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔بھنوئیں بنانے کیلئے کوئی بھی طریقہ اختیار کرنا آپ کا نتخاب ہے لیکن آرائش حسن کی دنیا سے تعلق رکھنے والے بیشتر ماہرین آپ کو بھنوئیں بنوانے کیلئے تھریڈنگ ہی کا مشورہ دیتے ہیں۔ اگر آپ کی بھنوئیں ہلکی ہیں تو ان پر باقاعدگی کے ساتھ آئی برو پینسل لگائیں اورساتھ ہی ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ آئی برو پینسل کا رنگ آپ کی بھنوئوں کے رنگ سے قریب تر ہو۔ اگر بھنوئوں کے درمیان کبھی کوئی گیپ آجائے تو میک اپ کرتے وقت اسے بھرنے کیلئے آئی برو پائوڈر کاسہارا لیںاور اس کے علاوہ رات کو بھنوئوں کے اوپر کیسٹر آئل لگایا جائے تو اس سے بھنوئیں گھنی ہوجاتی ہیں۔