طرابلس : امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے ایک گروپ نے شام میں عقوبتی مراکز اور واقعات کے بارے میں کچھ مزید تفصیلات حاصل کر لی ہیں۔یہ تفصیلات ان افراد کے بارے میں ہیں جنہیں داعش نے کسی وقت یرغمال بنایا، اغوا کیا یا پھر قتل کر کے قبروں میں پھینک دیا۔ یہ بات ‘سیرین جسٹس اینڈ اکاونٹبلٹی سنٹر (ایس جے اے سی ) نے جمعرات کے روز بتائی ہے۔ایس جے اے سی کا کہنا ہے کہ اس نے داعش کی بنائی ہوئی ایسی سات جگہوں کا ٹھیک ٹھیک پتہ چلا لیا ہے جو داعش یرغمال بنائے گئے یا اغوا کیے گئے افراد کو قید کرنے کے لیے استعمال کرتی تھی۔ان میں ممکنہ طور پر تین ایس جگہیں جو یرغمالیوں کے قتل کے بعد قبروں کے لیے مقرر تھیں۔ امریکی حقوق گروپ نے یہ معلومات امریکی عدالت میں داعش کے ایسے ارکان کے سلسلے میں کارروائی کے دوران جمع کی ہیں جو داعش ممبر یرغمالی کارروائیوں اور یرغمالیوں کے قتل کے حوالے سے بہت مشہور تھا۔ شام میں اسے ’بیٹلز‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔بتایا گیا ہے کہ یہ ایک چار رکنی سیل تھا۔ اسے یہاں قید رہنے والوں نے انگریزی کے اپنے برطانوی لہجے میں پاپ بینڈ کا نام دے رکھا تھا۔ 2012 سے 2015 تک اس جگہ پر کم ازکم 27 افراد کو بند رکھا گیا۔