بے شمار مینوفکچرنگ یونٹس کے مالکان اور ملازمین کا تخلیہ سے انکار، ادھو ٹھاکرے بھی احتجاج کریں گے
ممبئی: دھاراوی کو ایشیا کا سب سے بڑا سلم کہے جانے کا دور اب ختم ہوگیا ہے۔ سلم تو صرف کہنے کی بات ہے ورنہ وہاں اپنی ایک علحدہ دنیا آباد ہے۔ ممبئی کے مشہور علاقوں باندرہ اور سائن کے درمیان واقع دھاراوی کو بھی اب حکومت مہاراشٹرا نے ری ڈیولپمنٹ کے نام پر گوتم اڈانی کے حوالے کردیا ہے جہاں 2011ء تک بسے ہوئے افراد کو ہی ری ڈیولپمنٹ کے تحت تعمیر کئے جانے والے فلیٹس دیئے جائیں گے اور باقیماندہ کو اپنا بوریا بستر باندھنا پڑے گا۔ دھاراوی میں چھوٹے چھوٹے مینوفکچرنگ یونٹس کی تعداد کو انگلیوں پر نہیں گنا جاسکتا جہاں سوئی سے لیکر بچوں کے کھلونے، الیکٹرانک اشیاء، چمڑے کے جیاکٹس اور نہ جانے کتنے ہی دیگر تجارتی یونٹس صرف دو کمروں والے مکانات میں چل رہے ہیں اور وہاں ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم ہورہا ہے لیکن بھلا ہو حکومت مہاراشٹرا کا کہ اس نے اڈانی پراپرٹیز کو دھاراوی کے ری ڈیولپمنٹ کا کام سونپ دیا ہے۔ دھاراوی ہی ممبئی کا ایسا مقام ہے جہاں بیک وقت غربت اور تجارت کو دیکھا جاسکتا ہے۔ جب سے وہاں کے رہائشیوں کو ری ڈیولپمنٹ کے بارے میں پتہ چلا ہے ان کی راتوں کی نیند حرام ہوگئی ہے۔ پلاسٹک ری سائیکلنگ کی کئی یونٹس ہیں جہاں خواتین برسرروزگار ہیں۔ دھاراوی میں ویج، نان ویج اور دیگر ہمہ اقسام کے پکوان باآسانی دستاب ہوجاتے ہیں۔ وہاں مندر بھی ہے، مسجد بھی، درگاہ بھی ہے۔ دھاراوی کی آبادی کا اندازہ صرف اس بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ صرف 2.3 مربع کیلو میٹر کے رقبہ میں تقریباً 10 لاکھ نفوس آباد ہیں۔ آج حالت یہ ہوگئی ہے کہ وہاں کے رہائشی اب اپنے مستقبل کیلئے فکرمند ہوگئے ہیں۔ 16 ڈسمبر کو ممبئی میں اڈانی گروپ کے دفاتر تک دھاراوی کے ہزاروں لوگوں نے احتجاجی مارچ کیا۔ وہ دھاراوی چھوڑ کر جانا نہیں چاہتے۔ اڈانی پراپرٹیز کو جو کنٹراکٹ دیا گیا ہے اس کی مالیت 23000 کروڑ روپئے بتائی جارہی ہے۔ وہاں رہنے والے ایک رہائشی راج نادر نے کہا کہ دھاراوی کا ڈیولپمنٹ کرنا ہے تو ضرور کیجئے لیکن ہمیں وہاں سے مت ہٹائیے۔ ہم دھاراوی سے محض 10 کیلو میٹر دور تک کے مقام پر جانے بھی تیار نہیں ہیں۔ راج نادر 90 فیٹ روڈ میں واقع چمڑے کی اشیاء فروخت کرنے والی ایک چھوٹی سی دوکان کے مالک ہیں۔ ان کا کہنا ہیکہ ہم نے اپنی پوری زندگی یہیں گزاردی اور اب ہم کہیں اور جانا نہیں چاہتے۔ مہاراشٹرا کے سابق وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے بھی اس سلسلہ میں اڈانی گروپ پر موجودہ حکومت کے بہت زیادہ مہربان ہونے اور وہاں کے رہائشیوں کے ساتھ اظہاریگانگت کیلئے ایک احتجاجی مارچ کی قیادت کا منصوبہ بنارہے ہیں۔