کئی افراد اپنی جائیدادوں سے محروم ، سابق چیف منسٹر کے سی آر کی آمرانہ حکمرانی سے عوام بدظن
حیدرآباد۔27۔ڈسمبر(سیاست نیوز) دھرانی پورٹل میں جائیدادوں کے اندراج نے کے سی آر کو اپوزیشن میں بٹھایا ہے یا ان کے آمرانہ طرز حکمرانی نے انہیں شکست سے دوچار کیا ہے!تلنگانہ میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد حکومت کی جانب سے شروع کئے گئے پرجاوانی پروگرام میں موصول ہونے والی دھرانی میں پائے جانے والے نقائص کے متعلق شکایات کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ بھارت راشٹرسمیتی کو ’دھرانی ‘ پورٹل نے شکست سے دوچار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے کیونکہ دھرانی پورٹل جو کہ سابق چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی ذہنی اختراع تھی اس پر عمل آوری کے نتیجہ میں کئی جائیداد مالکین کو اپنی جائیدادوں سے محروم ہونا پڑا تھا اور کئی سرکاری و اوقافی جائیدادوں پر بھی بی آر ایس قائدین کے نام درج کئے جانے کے علاوہ بدعنوانیوں کے ذریعہ دوسروں کے ناموں کے اندراج کی بھی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ کے بیشتر تمام اضلاع سے اس بات کی شکایات موصول ہورہی ہیں کہ دھرانی پورٹل کے نام پر خانگی افراد کی جائیدادوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور ان جائیدادمالکین کے علاوہ دیگر کی جانب سے بھی یہ شکایات مسلسل کی جارہی تھیں ۔ انتخابات سے قبل دھرانی پورٹل کے نام پر جائیداد مالکین کو ہراسانی اور اپنی ہی جائیداد کی تفصیلات کے اندراج کے لئے لاکھوں روپئے کی رشوت کی شکایات کو دیکھتے ہوئے کانگریس پارٹی نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد فوری طور پر دھرانی پورٹل کو برخواست کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ پرجا وانی پروگرام میں عوامی شکایات کی وصولی میں دھرانی سے متعلق وصول ہونے والی شکایات کو دیکھتے ہوئے تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے عہدیداروں کو فوری حرکت میں آتے ہوئے بورڈ کے تحت موجود جائیدادوں کو جنہیں دھرانی پورٹل میں خانگی یا قابض کے علاوہ سرکاری زمرہ میں رکھا گیا ہے ان کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں دھرانی پورٹل میں تصحیح کروانے کے علاوہ ریکارڈس کو درست کرنے کے سلسلہ میں حکومت سے فوری نمائندگی کرنے کے اقدامات کرنے چاہئے کیونکہ ریاست میں دیگر محکمہ جات بالخصوص محکمہ مال کے عہدیداروں نے بھی سرکاری اراضیات کو جنہیں دھرانی پورٹل کے ذریعہ خانگی کے طور پر درج کیا گیا تھا اپنی غلطیوں کو درست کرنے کے اقدامات کرنے لگے ہیں تاکہ دھرانی پورٹل کے ذریعہ کی گئی دھاندلیوں کو قبل از وقت سدھارا جاسکے۔3