مشرقی دہلی میں مابعد اسمبلی چناؤ فسادات میں 50 سے زیادہ ہلاکتیں ۔ اقلیتی افراد کو چن چن کر مارا گیا ۔ میناریٹی کمیشن کی رپورٹ
نئی دہلی : دہلی کی ایک عدالت نے ہفتہ کو ایک شخص اور اس کے بیٹے کی ضمانت کے لیے داخل کردہ عرضیوں کو خارج کردیا ۔ یہ دونوں فروری میں شمال مشرقی دہلی کے فسادات کے دوران ایک مسجد کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنا کر نذر آتش کردینے سے متعلق کیس میں گرفتار ہے ۔ یہ بات نمایاں ہے کہ دہلی اقلیتی کمیشن نے مشرقی دہلی فسادات کے بارے میں دو روز قبل اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پرتشدد واقعات میں دہلی پولیس نے فسادیوں کی مدد کرتے ہوئے اقلیتی طبقہ کو نشانہ بنایا ۔ دارالحکومت میں کئی دہوں بعد اپنی نوعیت کے بدترین فرقہ وارانہ تشدد میں کم از کم 53 افراد ہلاک ہوگئے جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔ اس کے علاوہ 200 سے زیادہ دیگر افراد زخمی ہوئے ۔ مذہبی اقلیتوں کے حقوق کو فروغ دینے والے سرکاری کمیشن نے کہا کہ پولیس مخالف شہریت ترمیم قانون کے خلاف مسلمانوں کی مہم اور ان کے احتجاج کو پرامن برقرار رکھنے میں ناکام ہوئی ۔ اکثریتی برادری کے لوگوں نے مسلمانوں کو بی جے پی قائدین کی اشتعال انگیز تقاریر کے بعد چن چن کر مارا اور ان کے املاک حتیٰ کہ مذہبی مقامات اور عبادت گاہوں کو تک نہیں چھوڑا گیا ۔ مجموعی طور پر 11 مساجد اور 5 مدرسوں کو شدید نقصان پہونچا ۔ تاہم یہ بات دلچسپ ہے اور تلخ حقیقت بھی ہے کہ دہلی پولیس کو حکومت پہلے ہی اس سارے معاملے میں کلین چٹ دے چکی ہے ۔ اقلیتی کمیشن کی کارروائی میں کورونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر تاخیر ہوئی ۔ اس لیے رپورٹ کی اجرائی بھی موخر کرنی پڑی ۔ چیرمین ظفر الاسلام کے پیانل نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ اقلیتی حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں ۔ پرامن احتجاجوں کو دانستہ تشدد کی شکل دیتے ہوئے معاملے کو فسادیوں نے بھڑکایا ۔ فروری کے دوران مخالف سی اے اے احتجاجیوں کے کامیاب مظاہرے کو ناکام بنانے کیلئے موافق قانون عناصر نے منصوبے کے تحت کام کیا اور فساد برپا کردیا ۔ تاہم ہفتہ کو 2 ملزمین کے خلاف عدالتی موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ فساد میں اکثریتی برادری کے ارکان ملوث ہوئے ۔ ایڈیشنل سیشن جج وینود یادو نے ملزمین متھن اور اس کے بیٹے جانی کی درخواستوں کے خلاف ان کے خلاف عائد سنگین الزامات کو مدنظر رکھتے ہوئے خارج کردیا ۔ یہ دونوں فاطمہ مسجد کو نذر آتش کرنے کے معاملے میں ملوث ہیں ۔۔